| جہنم کے خطرات |
(کنزالعمال،کتاب الأخلاق من قسم الأقوال، الظلم والغضب، الحدیث:۷۵۹۳، ج۲،الجزء الثالث،ص۲۰۰)
مسائل و فوائد
کسی شخص کے ساتھ ظلم کرنا، اور کسی بھی قسم کا ظلم کرنا بہت شدید گناہ کبیرہ اور عذاب جہنم میں مبتلا کرنے والا کام ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو لازم ہے کہ جہنم کے اس خطرہ کو اپنے قریب نہ آنے دے ورنہ دنیا و آخرت میں ہلاکت و بربادی اتنی ہی یقینی ہے جتنا کہ آگ کا انگارہ ہاتھ میں لینے کے بعد جلنا یقینی ہے۔( واللہ تعالیٰ اعلم)
(۳۶) دُ شمنا نِ اِسلام سے د وستی
دشمنان اسلام یعنی کافروں، مشرکوں، مرتدوں اور بدمذہبوں سے دوستی کرنا اور ان سے میل جول اور محبت رکھنا حرام و گناہ اور جہنم میں جانے کا کام ہے۔ ا س بارے میں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں نازل ہوئیں اور رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی مقدس حدیثوں میں بڑی سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل چند آیتوں کو بغور پڑھیے اور ان سے ہدایت کا نور حاصل کیجئے
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ
ترجمہ کنزالایمان:مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کریگا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا۔(پ3،اٰل عمران:28)