Brailvi Books

جہنم کے خطرات
104 - 205
چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ
وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ﴿۱۱﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کر دیں کہ وہ ستمگار تھیں اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی۔(پ۱۷،الانبیآء:۱۱)

    دوسری آیت میں ارشاد ہواکہ
وَکَاَ یِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَمْلَیْتُ لَہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذْتُہَاج وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿۴۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستم گار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔(پ۱۷،الحج:۴۸)

     اس مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن مجید میں ہیں جو اعلان کر رہی ہیں کہ ظلم کرنے والوں کیلئے دنیا میں بھی ہلاکت و بربادی ہے اور آخرت میں بھی ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔ چنانچہ بہت سی آیتوں میں بار بار ارشاد فرمایا :
 وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک ظالموں کیلئے درد ناک عذاب ہے۔(پ25،الشورٰی:21)

اور ایک آیت میں یوں فرمایا :
اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۴۵﴾
ترجمہ کنزالایمان: سنتے ہو بیشک ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہیں۔(پ25،الشورٰی:45)

    اِسی طرح حدیثوں میں بھی ظلم کی مذمت و ممانعت بکثرت بیان کی گئی ہے۔
Flag Counter