Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
98 - 857
     حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید بتایا :''جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ عزوجل اولین وآخرین کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا، پھر فرشتے نازل ہو کر صفیں بنائیں گے۔'' اس کے بعد اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''اے جبرائیل (علیہ ا لسلام)! جہنم کو لے آؤ۔'' تو حضرت جبرائیل علیہ السلام جہنم کو اس طرح لے کر آئیں گے کہ اس کی ستر ہزار لگاموں کو کھینچا جا رہا ہو گا، پھر جب جہنم مخلوق سے سو برس کی راہ پر پہنچے گی تو اس میں اتنی شدید بھڑک پیدا ہو گی کہ جس سے مخلوق کے دل دہل جائیں گے، پھر جب دوبارہ بھڑک پیدا ہوگی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر جائے گا، پھر جب تیسری مرتبہ بھڑکے گی تو لوگوں کے دل گلے تک پہنچ جائیں گے اورعقلیں گھبرا جائیں گی، یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام عرض کریں گے :'' میں تیرے خلیل ہونے کے صدقے سے صرف اپنے لئے سوال کرتاہوں۔'' حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام عرض گزار ہوں گے: ''یا الٰہی عزوجل! میں اپنی مناجات کے صدقے صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں۔'' حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام عرض کریں گے: ''یاالٰہی عزوجل! تُو نے مجھے جو عزت دی ہے اس کے صدقے میں صرف اپنے لئے سوال کرتا ہوں اس مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے سوال نہیں کرتا جس نے مجھے جناہے۔'' 

(91)۔۔۔۔۔۔رسول کریم ،رؤف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' اے جبرائیل(علیہ السلام)! کیا بات ہے کہ میں نے میکائیل (علیہ السلام) کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟''تو انہوں نے عرض کی :''جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے میکائیل (علیہ السلام)کبھی نہیں ہنسے اور جب سے جہنم پیدا ہوئی، میری آنکھ اس خوف سے خشک نہیں ہوئی کہ کہیں میں اللہ عزوجل کی نافرمانی نہ کر بیٹھوں اور وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔'' 

    حضرت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دن روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا گیا :''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل کی طرف سے مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ مجھے جہنم پر پیش کیاجائے گا مگر یہ خبر نہیں پہنچی کہ میں وہاں سے نجات پا کر نکل بھی سکوں گا۔'' 

    جب ملائکہ ، انبیاء علی نبینا و علیہم ا لصلوٰۃ والسلام اورصحابہ کرام علیہم الرضوان کے جہنم سے خوف کایہ عالم ہو گا حالانکہ یہ ہستیاں گناہوں کی گندگیوں سے پاک وصاف ہیں تو اس وقت دھوکا کھائے ہوئے دعویدار کی ذلت ورسوائی کا کیا عالم ہو گا اور جسے اس کے نفس نے یہ کہہ کر گمراہ کر دیا کہ تیرا یہ خیمہ جہنم کی آگ بجھا دے گا اور جو اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں قطعی نجات یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ قطعی نجات تو صرف انہیں دس خوش نصیبوں کو حاصل ہوگی جنہیں نجات دہندہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے، اس کے باوجود ان کے خوف کایہ عالم تھا کہ