Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
99 - 857
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی تک یہ کہہ اٹھے :''کاش! میں کسی مؤمن کے سینے کا بال ہوتا۔'' اور حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماگئے :''اگر عمر کی مغفرت نہ ہوئی تو عمر ہلاک ہوجائے گا ۔''

    حدیث پاک میں ہے: جویہ کہے: ''یقیناًمیں جنت میں جاؤں گا وہ جہنم میں جائے گا۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب العلم ، باب کراھیۃ الدعوی، الحدیث:۸۸۰،ج۱،ص۴۴۳)
    یہاں اس خوف سے ہماری مراد عورتوں جیسی رقتِ قلبی نہیں جوکچھ دیر کے لئے رولیتی ہیں، پھر نیک عمل چھوڑ دیتی ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ خوف ہے جو انسان کے دل میں گھر بنا کر اسے گناہوں سے روکے اور اطاعت کی پابندی کی ترغیب دلائے، یہی وہ خوف ہے جو نفع بخش ہے اور یہ احمقوں کا خوف نہیں جو ڈرانے والی گذشتہ باتیں سنتے ہیں تو نَعُوْذُبِاللہِ اور یَا رَبِّ سَلِّمِْ (یعنی خدا کی پناہ اور یا رب عزوجل ! سلامت رکھنا) کے علاوہ کچھ نہیں کہتے بلکہ اس کے باوجود گناہوں کے ارتکاب پرڈٹے رہتے ہیں اور شیطان ان کا اس طرح مذاق اڑاتا ہے جیسا کہ تم اس شخص کو دیکھ کرمذاق اڑاؤ گے کہ جس پر کوئی خطرناک درندہ حملہ کرنے لگے جبکہ وہ شخص ایک محفوظ قلعے کے قریب ہو جس کا دروازہ بھی کھلا ہو مگر وہ اس میں داخل نہ ہو بلکہ رَبِّ سَلِّم کہتا رہے یہاں تک کہ وہ درندہ آ کر اسے کھا جائے۔ 

(92)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ایک شخص اپنی جان پر گناہوں کے ذریعے ظلم کیا کرتا تھا، جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :''جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری راکھ کو پیس کرہوا میں اڑا دینا، اللہ عزوجل کی قسم! اگر اللہ عزوجل نے مجھے عذاب دینا چاہا تو ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کونہ دیا ہو گا،پس جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی وصیت پر عمل کیاگیا، پھر اللہ عزوجل نے زمین کو حکم دیا :''اس کے جواَجزاء تجھ پر ہیں ان کو جمع کر دے۔'' زمین نے حکم کی تعمیل کی اور وہ بندہ کھڑا ہو گیا تو اللہ عزوجل نے اس سے پوچھا :''تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اُبھارا تھا؟'' اس نے عرض کی :''یارب عزوجل! تیرے خوف نے۔'' تو اس کوبخش دیا گیا۔''
(صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ،باب ۵۴،الحدیث:۳۴۸۱،ص۲۸۴)
(93)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی :''کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہوئی کوئی حدیثِ مبارکہ سنائیں گے؟''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''میں نے صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے سنا: ''جب ایک شخص کی موت کا وقت آیا اوروہ زندگی سے مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی :''جب میں مر جاؤں تو میرے
لئے بہت سی لکڑیاں جمع کر لینا، پھر اس میں آگ لگا کر مجھے اس میں ڈال دینا تا کہ آگ میرا گوشت کھا کر ہڈیوں کو جلا دے، پھر ان ہڈیوں کو اٹھا کر پیس لینا اور تیز ہوا کے دن اس راکھ کو اُڑا دینا۔'' (اس کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا اس نے کہا تھا) پھر اللہ عزوجل نے اس شخص کی راکھ کو جمع کر کے اس سے پوچھا :''تو نے ایسا کیوں کیا؟'' تو اس نے عرض کی :''تیرے خوف سے۔'' تو اس کو بخش دیاگیا۔''
(صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ،باب ۵۴،الحدیث:۳۴۷۹،ص۲۸۴،''اوقدروا''بدلہ ''اورُوا نارًا'')
Flag Counter