| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل کی قسم! اگر جہنم ہماری یہی دنیوی آگ بھی ہوتی تب بھی کافی تھی۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جہنم کی آگ کو دنیوی آگ سے اُ نہتَّر9 6 گنا زیادہ تیز کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر جزو کی گرمی دنیوی آگ کی طرح ہے۔''
(جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم، باب ماجاء ان نارکم ھذہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۵۸۹،ص۱۹۱۲)
(90)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن جب جہنم کو لایا جائے گا تو اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچتے ہوں گے۔''
(جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث:۲۵۷۳،ص۱۹۱۱)
چراغ کی لو پر اُنگلی رکھ دی
ایک نیک بزرگ کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، ہوا یوں کہ وہ کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے قریب ہی ایک چراغ جل رہا تھا، اچانک ان کے دل میں گناہ کا خیال آیا تو وہ اپنے نفس سے کہنے لگے :''میں اپنی انگلی اس چراغ کی بتی پر رکھتاہوں اگر تو نے اس پر صبر کر لیا تو میں اس گناہ کو کرنے میں تیری بات مان لوں گا۔'' پھر جب انہوں نے اس بتی پر اپنی انگلی رکھی تو بے قرار ہو کر چیختے ہوئے کہنے لگے: ''اے دشمنِ خدا عزوجل! جب تو دنیا کی اس آگ پر صبر نہیں کر سکا جسے ستر مرتبہ بجھایا گیا ہے تو جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریگا؟''
امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ''اے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! ہمیں ڈر والی کچھ باتیں سنائیں۔'' تو حضرت سیدنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''اے امیر المؤمنین! اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیامت کے دن ستر انبیاء کرام علیہم السلام کے عمل لے کر بھی آئیں تو قیامت کے احوال دیکھ کر انہیں حقیر جاننے لگیں گے۔'' اس پرامیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا توارشاد فرمایا: ''اے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! مزید سنائیں۔'' تو انہوں نے عرض کی :''اے امیرالمؤمنین! اگر جہنم میں سے بیل کے ناک جتنا حصہ مشرق میں کھول دیا جائے تو مغرب میں موجود شخص کا دماغ اس کی گرمی کی وجہ سے اُبل کر بہہ جائے۔'' اس پرامیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ دیرکے لئے سرجھکا لیا پھر جب افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا: ''اے کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اورسنائیں۔'' تو انہوں نے پھر عرض کی: ''اے امیر المؤمنین! قیامت کے دن جہنم اس طرح بھڑکے گا کہ کوئی مقرَّب فرشتہ یانبئ مرسَل ایسا نہ ہو گا جو گھٹنوں کے بل گر کر یہ نہ کہے: رَبِّ! نَفْسِیْ! نَفْسِیْ! (يعنی اے رب عزوجل! آج میں تجھ سے اپنی بخشش کے علاوہ کچھ نہیں مانگتا)۔''