Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
96 - 857
(88)۔۔۔۔۔۔اس کی نظیر حبیبِ خدا عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے محبوب ابنِ محبوب حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا واقعہ ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسے شخص کو جو کلمہ پڑھتا تھا یہ گمان کرتے ہوئے قتل کر دیا کہ یہ حقیقت میں کلمہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے پڑھ رہا ہے، لیکن جب یہ بات نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تک پہنچی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان پر عتاب فرمایا اور بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے :''تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں تمنا کرنے لگا :'' کاش! میں ا س دن مسلمان نہ ہوتا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عمران بن حصین، الحدیث:۱۹۹۵۷،ج۷،ص۲۱۷)
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفر کی تمنا نہیں کی تھی بلکہ اپنے مسلمان ہونے کے اس واقعے سے مؤخر ہونے کی تمنا کی تھی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ واقعہ اسلام لانے سے پہلے کا ہوتا تو اسلام اسے مٹا دیتا۔ یہ مقام فکر ہے لہٰذا یہاں خوب غور کرنا چاہے۔ 

     جب لوگ علم سے دورہوئے تو انہوں نے اپنے اعمال کو ملاحظہ کیا تو یہ پایاکہ ان میں سے کچھ افراد سے اتفاقا ًکچھ ایسے اُمور صادر ہورہے ہیں جو کرامات کے مشابہ ہیں، لہٰذا انہوں نے مختلف قسم کے دعوے کرنے شروع کردیئے اور سلف صالحین کے دعوی نہ کرنے کے طریقے کی پیروی چھوڑ دی، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہاں تک کہہ دیا: ''میں چاہتا ہوں کہ قیامت جلدہی قائم ہوجائے تا کہ میں جہنم پراپنا خیمہ نصب کر سکوں۔'' تو ایک شخص نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تواس نے جواب دیا : ''مجھے یقین ہے کہ جب جہنم مجھے دیکھے گی تو اس کی آگ بجھ جائے گی اور اس طرح میں مخلوق پر رحمت کا سبب بن جاؤں گا۔'' 

    یہ انتہائی بدترین او ربرا کلام ہے، کیونکہ اس میں اللہ عزوجل کے بیان کردہ جہنم کے عظیم معاملہ کی تحقیر پائی جاتی ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے جہنم کے اوصاف کثرت سے بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔(پ1، البقرۃ: 24)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
اِذَا رَاَتْہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿12﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی توسنيں گے اس کا جو ش مارنا اور چنگھاڑنا۔(پ 18، الفرقان : 12)

(89)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم جو آگ جلاتے ہو یہ جہنم کی
Flag Counter