| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
اور مسجد میں کثرت سے آتا جاتا تھا۔ اس سے ایک عورت محبت کرتی تھی، ایک مرتبہ اس عورت نے اسے اپنے پا س بلایا یہا ں تک کہ وہ اس کے ساتھ خلوت میں آ گیا پھر اسے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کا خیال آیا تو وہ غش کھا کر گر گیا اس عورت نے اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے دروازے پر ڈال دیا، پھر اس نوجوان کا والد آیا اور اسے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا، لیکن اس نوجوان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور وہ مسلسل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا، اس کی تجہیز وتکفین کرکے اسے دفن کردیا گیا تو حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمن: 46)
تواس کی قبر سے آواز آئی :''اے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! بے شک اللہ عزوجل نے مجھے دو جنتیں عطا فرما دی ہیں اور وہ مجھ سے راضی بھی ہو گیا ہے۔''
حضرت سیدنا یحیی بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''سب سے بڑا دھوکا اور سب سے بڑی جرأت یہ ہے کہ گناہگار بندہ اپنے گناہ پرندامت کا اظہار کئے بغیر اللہ عزوجل سے عفو کی اُمید رکھے، اعمال صالحہ کئے بغیر اللہ عزوجل کی بارگاہ سے نیکیوں کے حصول کی اُمید رکھے، عمل کئے بغیر جزاء کا انتظار کرے اور حدسے بڑھنے کے باوجود اللہ عزوجل سے مغفرت کی تمنا کرے۔''
خوفِ خدا عزوجل کے حصول اور اس میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ علم ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ22، فاطر: 28)
یہی وجہ ہے کہ علماء صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعدوالے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پر خوفِ خدا عزوجل کاغلبہ رہتا تھا، یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''کاش! میں کسی مؤ من کے سینے کا ایک بال ہوتا۔''
حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی موت کے وقت فرمایا:'' عمر ہلاک ہو جائے گا اگراس کی مغفرت نہ ہوئی۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''کاش! مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کیا جائے۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول پر کفریہ کلمات میں کئے گئے اعتراضات کے ذریعے کچھ اشکال وارد ہوتے ہیں مگر ان اشکالات کا جواب یہ ہے کہ ان کی یہ تمنا حقیقت پر مبنی نہ تھی بلکہ اس بات کا اظہار مقصود تھا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جن پر مجھے دوبارہ زندگی ملنے کے بعد مؤاخذے کا خوف ہے۔