Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
94 - 857
ہو گی ) ۔'' اس بزرگ نے جواب دیا :''عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔'' پھر انہوں نے مزید ارشاد فرمایا:''جب تم ان کے پاس جاؤ تو گفتگو مختصر کرنا۔'' اور وہ شخص جب حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے نے پھر اس سے کہا: ''اگر تم کوئی سوال کرنا چاہو تو مختصر سوال کرنا۔'' تواس نے کہا: ''اگر وہ مجھ سے مختصر کلام کریں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔'' اس سے حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''میں تمہیں اپنی اس مجلس میں تورات، انجیل اور قرآن کریم سکھاؤں گا۔'' تواس نے عرض کی: ''اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے یہ تینوں کتابیں سکھا ئیں گے تو میں بھی آپ سے کوئی سوال نہ کروں گا۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ خوف میں ڈالنے والی کوئی چیز نہ ہو اور اس سے اپنے خوف سے زیادہ امید رکھو اور جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو۔'' 

    حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے کی اس بات کہ''عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔'' کی تائید حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان:
 وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ
ترجمۂ کنزالایمان:اورتم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتاہے۔(پ 14، النحل: 70)

کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ''جس نے قرآن کریم کا حق ادا کرتے ہوئے اسے پڑھا وہ اس حالت کو نہیں پہنچے گا۔'' 

    ''عالم کے نہ سٹھیانے ''سے مراد یہ ہے کہ بڑی عمر میں عالم کی عقل میں عام لوگوں کی طرح فساد پیدا نہیں ہوتا یعنی جس طرح عام لوگ بڑی عمر میں بچو ں کی سی بلکہ ان سے بھی بدتر حرکتیں کرنے لگتے ہیں عالم اس طرح نہیں کریگا یہی وہ برائی ہے جس سے اللہ عزوجل کی طر ف سے علماء کی حفاظت کی جاتی ہے۔ 

    حضرت سیدنا مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمن: 46)

کی تفسیرمیں فرمایا:''اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کے بارے میں سوچے پھر اسے اللہ عزوجل کا خیال آ جائے اور وہ اللہ عزوجل کے خوف اور اس سے حیا کرتے ہوئے اس گناہ کو چھوڑ دے۔''
دو جنتیں مل گئیں:
    منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ایک نوجوان تھا جومتقی، پرہیزگار
Flag Counter