| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(87)۔۔۔۔۔۔اپنے زمانہ کے شافعی مذہب کے امامِ حضرت سیدنا شیخ نصر المقدسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں:''مجھے میرے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چار باتوں کی وصیت فرمائی،جومجھے دنیا اور اس کی ہرچیز سے زیادہ پیاری ہیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:''اے ابو ذر!کشتی کی مرمت کر لو کیونکہ دنیا کا سمندر بہت گہرا ہے،بوجھ کو ہلکا رکھو کیونکہ سفر بہت طویل ہے ،توشہ ساتھ لے لو کیونکہ گھاٹی بہت لمبی ہے اور عمل میں اخلاص پیدا کرلو کیونکہ تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرنے والا صاحبِ بصیرت ہے۔''
حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خشیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''خشیت یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ اس کا ڈر تمہارے اور نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔''
اللہ عزوجل سے غافل ہونے سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کی معصیت میں اِنتہا کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود بخشش کی تمنا رکھے۔
ایک شخص کسی تفریح گاہ میں داخل ہوا ،اس کے دل میں معصیت کا خیال آیاتو اس نے سوچا کہ یہاں مجھے کون دیکھے گا؟ اچانک اس نے ایک بے چین کر دینے والی آواز سنی :اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الْخَبِیۡرُ ﴿٪14﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔(پ29، الملک: 14)
حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔(پ 22، فاطر: 5)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:''اس سے مراد گناہوں پر ہمیشگی اختیار کرنے کے باوجود مغفرت کی تمنا رکھنا ہے۔''
حضرت سیدنا بشر حافی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی :''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی نصیحت فرمایئے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا:''جو اللہ عزوجل کا خوف رکھتا ہوتو یہی خوف ہر خیر کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے۔''
ایک شخص نے حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو اس کے پاس ایک بزرگ تشریف لائے، اس نے ان سے پوچھا: ''کیا آپ ہی طاؤس ہیں؟'' تو اس بزرگ نے ارشاد فرمایا: ''نہیں! میں ان کا بیٹا ہوں۔'' تو اس شخص نے کہا: ''اگر تم طاؤس کے بیٹے ہو تو یقینا تمہارے والد ِگرامی سٹھیاگئے ہوں گے(یعنی بُڑھاپے کی وجہ سے اُن کی عقل جاتی رہی