Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
92 - 857
ہونے سے ڈرتا ہے۔'' 

    منقول ہے :''کسی نبی علیہ الصلوٰۃ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنی بھوک اور سردی کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی بھیجی :''اے میرے بندے! کیا تُو اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تیرے دل کو اپنی ناشکری سے محفوظ کر دیا ہے، پھر بھی تُو مجھ سے دنیا کا سوال کرتا ہے۔'' تو وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر عرض کرنے لگے: ''کیوں نہیں ،یارب عزوجل! بے شک میں راضی ہوں، مجھے ناشکری سے بچائے رکھنا۔'' جب راسخ قدمی اور قوتِ ایمانی کے باوجود عارفین کے برے خاتمے سے خوف کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے کمزور و ناتواں بندے کیوں نہ ڈریں۔ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''موت سے پہلے برے خاتمہ کی چند علامات ظاہر ہوتی ہیں، مثلا بدعت میں مبتلا ہونا اور عمل میں نفاق۔''

(84)۔۔۔۔۔۔ان کی پہلی بات کی تائید دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان بھی کرتاہے کہ ''بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔''
(کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب البدع و الرفض من الاکمال، الحدیث: ۱۱۲۱،ج۱،ص۱۲۳،بدون ''فی النار '')
(85)۔۔۔۔۔۔دوسری بات کی طرف نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اشارہ فرمایا ہے :''منافق کی تین علامتیں ہیں: 

(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب خصال المنافق ، الحدیث:۲۱۱/۲۱۳،ص۶۹۰)
    اسی وجہ سے ہمارے اسلاف اس معاملہ میں بہت زیادہ ڈرتے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا: ''اگر مجھے پتہ چل جائے کہ میں نفاق سے بری ہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہو گا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔'' 

    حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا:''نفاق والے خشوع سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگا کرو۔''آپ سے عرض کی گئی :''نفاق والا خشوع کیا ہے؟'' تو آپ نے ارشاد فرمایا:''جسم تو خاشع نظر آئے مگر دل فاسق و فاجر ہو۔'' 

(86)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے زمانے میں انہیں ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال شمار کرتے تھے۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الرقاق،باب ما یتقی من محقرات الذنوب،الحدیث :۶۴۹۲،ص۵۴۵)
Flag Counter