ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔(پ29، المعارج: 28)
اگر اللہ عزوجل اپنے عارف بندوں اور وارثینِ علوم ِانبیاء یعنی علماء پر لطف و کرم نہ فرماتا اور امیدکی سہانی مدد سے انہیں تسکین نہ دلاتا تو ان کے کلیجے جہنم کے خوف سے جل جاتے۔
سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کی قسم اٹھا کر فرماتے تھے :''جو موت کے وقت ایمان کے چھن جانے سے بے خوف رہے گا اس کی موت کے وقت اس کا ایمان چھین لیاجائے گا۔'' یعنی اس کا ایمان اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنے کی وجہ سے چھینا جائے گا۔
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نزع کا عالم طاری ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے، ایک شخص نے دریافت کیا: ''اے ابو عبداللہ! کیا گناہ کی کثرت نظر آ رہی ہے؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر اٹھایا اور زمین سے کچھ مِٹی اٹھا کر ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل کی قسم! میرے گناہ میرے نزدیک اس مٹھی بھر مِٹی سے بھی زیادہ حقیر ہیں، میں تو موت سے پہلے ایمان چھن جانے کے خوف سے رورہاہوں ۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں:''جب میرے والد گرامی پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں ان کے قریب بیٹھ گیا، میں نے ان کے جبڑے باندھنے کے لئے ہاتھ میں کپڑے کاایک ٹکڑا پکڑ رکھا تھا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کبھی بے چین ہوجاتے اور کبھی افاقہ محسو س کرتے اور کہتے :''خبردار! مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔'' میں نے عرض کی: ''ابا جان! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس عالم میں ایسے انداز میں کس سے مخاطب ہیں؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ''اے میرے بیٹے! کیاتم نہیں جانتے؟'' میں نے عرض کی :''نہیں!'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا:'' ابلیس میرے سامنے کھڑا ہے اور مجھ سے کہہ رہاہے: ''اے احمد! مجھے ایک بار تو آزما لو۔'' لیکن میں اس سے کہہ رہا ہوں :''جب تک میں مر نہ جاؤں مجھ سے دور رہو۔''
حضرت سیدنا سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے :'' مُرید گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ عارف کفر میں مبتلا