Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
90 - 857
(6) فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کر ے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا ۔(پ 30،الزلزال: 7۔8)
(7) وَالْعَصْرِ ۙ﴿1﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿2﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ٪﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اس زمانہ محبو ب کی قسم! بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جوایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ 30،العصر : 1تا3)

    بصیرت کی آنکھ اورفراست کے نور سے دیکھو ! اللہ عزوجل نے ہرانسان پر خسارے کا حکم لگایا کیونکہ''اَلْعَصْر''پر ''الف لام'' عموم اور اِستغراق کے لئے ہے اور اس کی دلیل استثناء ہے کہ ہر انسا ن خسارے میں ہے مگر جو ان چار باتوں کا جامع ہوگا وہ ہلاکت میں ڈالنے والے خسارے سے نجات یافتہ ہوگا،وہ چار باتیں یہ ہیں: (۱)ایمان (۲)نیک عمل (۳)حق کی اس طرح وصیت کرنا کہ وہ لوگ کتاب وسنت سے ثابت شدہ اخلاق و آداب، احکام و اقوال اور ظاہری و باطنی تمام افعال کی شرائط پر عمل کریں تا کہ ا ن میں سے کوئی شئے اخلاص کے بغیرنہ پائی جائے اور وہ اس سے صرف اللہ عزوجل کی رضا چاہیں اور (۴) انہیں صبر کی تلقین کریں کہ وہ اطاعت کرنے، ناپسندیدہ امور ، آزمائشوں،  گناہ چھوڑنے اور اپنی خواہشات ولذات ترک کرنے پر صبر کریں، ہماری بیان کردہ یہ چار شرائط جس میں پائی جائیں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ایک بڑی امید یعنی خسارے ، عا ر اور تباہی وبربادی سے سلامتی کی راہ پر ہو گا اور اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وصول کے مرتبہ سے مشاہدہ کا بلند مرتبہ حاصل ہوگا اور حال ومآل یعنی دنیاوآخرت میں اس کی رضا حاصل ہو گی۔ اللہ عزوجل اپنے احسان اور کرم سے ہم میں ان شرائط پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا فرمائے۔آمین

    ایک عقل مند کے لئے یہ بات کس طرح درست ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی پکڑ اور اس کے انتقام سے بے خوف رہے، حالانکہ اس کادل رحمن عزوجل کی قدرت کی دو انگلیوں کے درمیان ہے یعنی ایک قوم کے لئے خوش بختی اور دوسری کے لئے بد بختی کے ارادے کے درمیان ہے، دل کو قلب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پھرنے، بدلنے میں کھولنے والی ہانڈی سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔

(83)۔۔۔۔۔۔اسی لئے شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دورانِ سجدہ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے :'
'یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
Flag Counter