| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(2) وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوۡدٌ ﴿۱۰۳﴾وَمَا نُؤَخِّرُہٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوۡدٍ ﴿۱۰۴﴾ؕیَوْمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ۚ فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾فَاَمَّا الَّذِیۡنَ شَقُوۡا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّشَہِیۡقٌ ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ایسی ہی پکڑہے تیرے رب کی، جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے، جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکم خدا بات نہ کریگا تو ان میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش نصیب تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں گے ۔(پ 12،ھود : 102تا 106)
(3) وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پرنہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈروالوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑدیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔(پ 16، مریم : 71۔72)
(4) وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿23﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظرآتے ہیں۔(پ 19، الفرقان: 23)
(5) وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیۡہِمْ اِبْلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ
ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھا یا تو وہ اس کے پیچھے ہولئے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا۔(پ22،سبا: 20)