Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
88 - 857
لوگوں کے راستے پر چلنا۔مثال کے طور پرہر وقت مراقبہ ومشاہدہ اور ذکر و فکر میں مگن رہنا اوراپنے قال و حال اور دعوت واخلاص کے ساتھ اللہ عزوجل کی مخلوق کی جانب متوجہ ہونا۔

    مذکورہ شرائط میں جس ایمانِ کامل کو بیان کیاگیا ہے اس کی وضاحت حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان ذیشان میں موجود ہے: 

(82)۔۔۔۔۔۔''تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چيز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے۔''
    (صحیح البخاری ، کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۳،ص۳)
اور اس کی مثال قرآنِ کریم میں بھی ہے:
فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الْمُفْلِحِیۡنَ ﴿67﴾
تر جمہ کنز الایمان :تو وہ جس نے تو بہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو۔(پ 20،القصص : 67)

    تم اس بات سے دھوکا نہ کھانا کہ ''عَسٰی'' کالفظ جب اللہ عزوجل کی طرف سے استعمال ہو تو وہ یقین کے معنی میں ہوتاہے کیونکہ یہ اکثری قاعدہ تو ہے مگر کلی نہیں،

اللہ عزوجل فرماتا ہے:
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی ﴿44﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تواس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یاکچھ ڈرے۔(پ 16،طٰہٰ: 44)

    حالانکہ فرعون نے نہ تو نصیحت حاصل کی اور نہ ہی نفع دینے والا خوف وخشیت اپنایا، بلکہ یہاں اللہ عزوجل نے تمہیں خبردارکیا ہے کہ جب تم سچی توبہ کر لو، ایمانِ کامل لے آؤ اور نیک عمل کو اپنا لو، تب اپنے لئے فلاح کے حصول اور حق تعالیٰ کی بارگاہ سے ہدایت و قرب کی اُمید رکھو،اورخواہ کتنے ہی نیک عمل کیوں نہ کرلو اللہ عزوجل کی خفیہ تد بیر سے بے خوف رہنے سے بچتے رہو، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿٪99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔(پ 9 ، الاعراف: 99)

اور اللہ عزوجل کے ان فرامین مبارکہ کو بھی پیش نظر رکھو:
(1) لِّیَسْـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدْقِہِمْ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے۔ (پ21،الاحزاب:8)
Flag Counter