Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
87 - 857
فرمائی تھی کہ مؤمنین کے نابالغ بچے قطعی جنتی ہیں، چونکہ اس وقت ان کا جنتی ہونا یقینی نہیں تھا لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یقین کے ساتھ اس کا انکار فرمایا۔ جبکہ نصوص قطعیہ کی گواہی کے بعد مسلمانوں کے بچوں کوقطعی جنتی کہنے والے پر انکار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اختلاف تو کفار کے بچوں کے بارے میں ہے جبکہ صحیح ترین قول یہی ہے کہ وہ بھی جنت میں ہوں گے، اب ہم اپنی گفتگوکی طرف آتے ہیں۔ 

(80)۔۔۔۔۔۔رسولِ اَکرم، نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کے اس فرمانِ عالیشان سے تمام مؤمنین کیوں نہ ڈریں کہ
''سُوْرَۂ ھُوْد، اَلْحَاقَّۃُ، اَلْوَاقِعَۃُ،عَمَّ یَتَسَاءَ لُوْنَ، اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ
اور
اَلْغَاشِیَۃُ
نے مجھے بوڑھاکرديا۔''
(مجمع الزوائد،کتاب التفسیر،الباب ۱۲،الحدیث :۱۱۰۷۲،۱۱۰۷۵،ج۷،ص۱۱۷ )
    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:''شایداس کا سبب یہ ہے کہ ان سورتوں میں دلايا گیا خوف اور وعیدیں انتہائی سخت ہیں اگرچہ ان میں آخرت کے احوال ،عجائبات ، ہولناکیاں اورہلاک ہونے والوں اورعذاب پانے والوں کے احوال بھی مختصر طور پر بیان کئے گئے ہیں جبکہ سُوْرَۂ ھُوْد استقامت کے احکامات پر مشتمل ہے، اوریہ خوفِ خدا عزوجل وہ مشکل ترین مقام ہے جس پر قائم رہنے کے اہل صرف نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسمَّ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی ہیں۔ اوریہ مقامِ شکر کی طرح ہے کیونکہ شکر اس چیز کا نام ہے کہ''بندہ اپنے تمام اعضاء کو اللہ عزوجل کی عطا کردہ تمام نعمتوں کے ساتھ خواہ وہ ظاہری حواس ہوں یا باطنی ، اپنے مقصدِ تخلیق یعنی اللہ عزوجل کی عبادت اور کامل طریقے سے اس کی اطاعت میں مصروف کر دے۔''

(81)۔۔۔۔۔۔اسی لئے جب نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مجاہدات، کثرتِ گریہ اور خوف وتضرع کے بارے میں پوچھا جاتا :''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسا کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سبب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے :''کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟''
(صحیح البخاری ،کتاب التھجد،باب قیام النبی اللیل،الحدیث:۱۱۳۰،ص۸۸)
    کتنے تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاثُمَّ اھْتَدٰی0 (پ ۱۶، طٰہ ٰ: ۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوربیشک میں بہت بخشنے والاہوں اسے جس نے توبہ کی اورایمان لایااوراچھاکام کیاپھرہدایت پررہا۔

سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بہت بڑی امید دلائی گئی ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے اس میں مغفرت تک رسائی کے لئے چار شرائط عائد کی ہیں جن کے بعد بڑی اُمید کہاں باقی رہتی ہے؟ وہ شرائط یہ ہیں: (۱)توبہ(۲)ایمان کامل (۳)نیک عمل اور (۴)ہدایت یافتہ
Flag Counter