| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
گواہی دینے پر مَخزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کس طرح ممانعت فرمائی حالانکہ، (78)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے:اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ عزوجل نے اہل بدر کی شان میں یہ فرمایا ہے: ''تم جوچاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیاہے۔''
(کنز العمال،کتاب الفضائل،فضائل الامۃ ، اھل بد ر، الحدیث:۳۷۹۵۶،ج ۱۴،ص۳۱)
مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ان کا بوسہ لینا، ان کے لئے آنسو بہانا، انہیں افضل واعظم اوصاف سے متصف کرنا، یہ فرمانا کہ''انہوں نے دنیا کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔'' اور یہ کہ ''يہ السلف الصالح ہیں۔'' یہ تمام معلومات اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ تم اگرچہ کتنی ہی نیکیاں کیوں نہ کرلو تمہیں چاہے کہ تم اللہ عزوجل سے ڈرتے رہو اور اس کے عذاب اور دردناک عقاب سے خوفزدہ رہو، کیونکہ اللہ عزوجل پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں۔
قُلْ فَمَنۡ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :تم فرمادو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتاہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اوراس کی ماں اورتمام زمین والوں کو۔(پ 6 ،المآئدہ : 17) (79)۔۔۔۔۔۔شہنشاہ ِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس صحابیہ پر انکار فرمانے کی ایک نظیر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ بھی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:'' صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایک انصاری بچے کے جنازے میں بلایا کیا گیا، تو میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! جنت کی اس چڑیاکے لئے سعا دت ہے کہ نہ اس نے کبھی برائی کو پایا اور نہ ہی کوئی برا کام کیا۔'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے عائشہ! کیا کچھ اور کہنا ہے؟ اللہ عزوجل نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے ، لیکن جنت کو ان کے لئے اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اورکچھ لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا فرمایا او رجہنم کو اسی وقت ان کا مقدر بنا دیا تھا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب القدر،باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۶۸،ص۱۱۴۱)
کچھ لوگوں نے اس حدیثِ مبارکہ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ''مؤمنین کے نابالغ بچوں کا جنت میں داخلہ یقینی نہیں۔'' علماء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم نے قطعی آیات واحادیث کے مخالف ان کے اس شنیع قول کا خوب انکار فرمایا اور اس کے قائل کوغلط کہا اوریہ ارشاد فرمایاکہ''اس حدیثِ مبارکہ سے استدلال نہیں کیاجاسکتا کیونکہ بالاجماع اس کا ظاہری معنی مرادنہیں، بلکہ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اللہ عزوجل کے اس خبر دینے سے پہلے بیان