جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کی تیمارداری کی یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصال فرمایا اور ہم نے انہیں کفن پہنا دیاتو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمارے پاس تشریف لائے تومیں نے کہا: ''اے ابو سائب! اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عزوجل نے تمہیں عزت عطا فرما دی ہے۔'' توخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل نے انہیں عزت عطا فرمادی ہے؟'' میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرقربان،یہ تو میں نہیں جانتی۔'' تو سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو انتقال کر گئے، اللہ عزوجل کی قسم! میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں۔'' (نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ان کی گواہی پر انکار اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے کسی قابل اعتماد وقطعی دلیل کے بغیر یقینی گواہی دی تھی حالانکہ انہیں چاہے تھا کہ گواہی یقین کے انداز میں نہیں بلکہ اُمید کے انداز میں دیتیں جیسا کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے طرزِعمل سے دکھایا)
اس کے بعد مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں اللہ عزوجل کا رسول ہونے کے باوجود اپنے (ذاتی )علم سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔''تو حضرت سیدتنا ام علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:''اللہ عزوجل کی قسم! میں اس کے بعد کبھی کسی کی تعریف( جزم ویقین کے ساتھ) نہیں کروں گی(بلکہ امید اور اللہ عزوجل سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے ہی اس کی تعریف کروں گی)۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مزید فرمایا: ''اس واقعہ نے مجھے غمزدہ کردیا پھرجب میں سوئی تو میں نے خواب میں حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک جاری چشمہ دیکھا تو آقائے دو جہاں، مکینِ لامکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حاضر ہو کر اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''وہ اُن کا عمل ہے۔''