| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ساتھ مخالفتِ الٰہیہ عزوجل کی ہوا بھی چل رہی ہے،اب اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے رونے ، افسوس اور غم واندوہ میں کثرت کرے اور ظاہری و باطنی گناہوں سے دوری اختیار کرے نیز اپنے سابقہ گناہوں اور خطاؤں سے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں نجات طلب کرے، شاید اللہ عزوجل اسے سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسے جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں سے نکال کر علم اور اطاعت کی دولت سے نواز دے اور ان دونوں کے ثمرات اس پر کھول دے۔
کسی بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے :''سب سے نرم دل آدمی وہی ہوتا ہے جس کے گناہ کم ہوتے ہیں۔''
(74)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نجات کیا ہے؟'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''نجات يہ ہے کہ تم اپنی زبان پرقابو پا لو، اپنے گھر کو وسیع کرلواور اپنے گناہوں پر آنسو بہایا کرو۔''(جامع الترمذی،ابواب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان، الحدیث:۲۴۰۶،ص۱۸۹۳''امسک ''بدلہ ''املک'')
(75)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میں تم سب سے زیادہ اللہ عزوجل کی معرفت رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الایمان،باب قول النبی اناا علمکم باللہ،الحدیث:۲۰،ص۳ ،بدون''اشدکم لہ خشیۃ'')
اسی وجہ سے انبیاء ورسل علیہہم الصلاۃوالسلام اور علماء واولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ پر خوفِ خدا عزوجل کا غلبہ رہتا ہے جبکہ ظالم و سرکش، فرعون خصلت، بیوقوف، جاہل، عام اور کمینے و رذیل لوگوں پراللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی غالب رہتی ہے حتی کہ وہ سخت عتاب، جہنم کے عذاب اور حجاب کی دوری سے اس طرح بے خوف رہتے ہیں جیسے حساب و کتا ب سے فارغ ہو چکے ہوں۔ اللہ عزوجل ان کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
نَسُوا اللہَ فَاَنۡسٰىہُمْ اَنۡفُسَہُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بَلامیں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔(پ 28، الحشر :19) (76)۔۔۔۔۔۔ایک انصاری خاتون حضرت سیدتنا اُم علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے :''جب پہلے پہل مہاجر صحابہ کرام علیہم الرضوان، انصار کے پاس تشریف لائے تو انصار نے(ان کی معاشی پریشانیوں کا بوجھ بانٹنے کے لئے) ان سب مہاجرین کوآپس میں قرعہ کے ذریعے تقسیم کر لیا تو جلیل القدر، عبادت گزار صحابی حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے حصہ میں آئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلِ بدر میں سے ہیں،