| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کی: ''مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قربت محبوب ہے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشی بھی عزیز ہے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی گود مبارک تر ہو گئی، پھر اتنا روئے کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی، جب حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کا وقت ہوجانے کی خبر دینے حاضر ہوئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوروتے ہوئے پایا تو عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سبب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''کیا میں اللہ عزوجل کاشکر گزار بندہ نہ بنوں؟ بے شک آج رات مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ جو اسے پڑھ کر اس میں غور نہ کرے اس کے لئے ہلاکت ہے، وہ آیت مبارکہ یہ ہے:
اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیۡ تَجْرِیۡ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الۡاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّتَصْرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوۡنَ ﴿164﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان وزمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں۔(پ 2، البقرۃ :164)
(صحیح ابن حبان،باب ذکر البیان،بان المرء علیہ اذا خلا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۹،ج۲،ص۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے! رونا یا تو غم کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر درد کی وجہ سے، کبھی گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے تو کبھی خوشی کی وجہ سے ، کبھی شکر گزاری کے لئے رونا آتاہے تو کبھی خوفِ خدا عزوجل کی وجہ سے۔ اور یہی رونا سب سے افضل اورآخرت میں گراں قدر ہو گا جبکہ دکھاوے اور جھوٹ سے رونا، رونے والے کی سرکشی، برائی اور رحمتِ الٰہی عزوجل سے دوری میں اضافہ کرتا ہے،
لہٰذا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل نے اپنے علمِ ازلی میں اس کے بارے میں اَبدی سعادت لکھی ہے یا دائمی شقاوت، بہرحال وہ ان دو حالتوں میں سے کسی میں بھی ہو وہ حرام ٹھہرائے گئے کاموں کی کشتی میں سوار ہے اوراس کے ساتھ