Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
82 - 857
آنکھ نہ روئے ایسی آنکھ میں بھلاکون سی بھلائی رہ جاتی ہے۔''

    حضرت سیدنا حسن بن عرفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ''واسط'' میں حضرت سیدنا یزید بن ہارون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا، آپ کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں پھر کچھ عرصہ بعد میں نے انہیں دیکھا تو وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے پوچھا:''اے ابو خالد! آپ کی خوبصورت آنکھوں کوکیا ہوا؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ''انہیں سحر کا رونا لے گیا۔'' 

    حضرت سیدنا فتح موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک عقیدت مند آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کو روتے ہوئے اس حال میں پایا کہ آپ کے آنسوؤں میں پیلاپن واضح تھا۔ تو اس نے دریافت کیا: ''کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خون کے آنسو رو رہے ہیں؟'' تو آپ نے ارشاد فرمایا: ''ہاں!'' اس نے دوبارہ عرض کی: ''کس بات پر رو رہے ہیں؟'' آپ نے جواب دیا: ''اللہ عزوجل کے واجب کردہ حق سے کوتاہی برتنے پر۔'' پھر آپ کے انتقال کے بعد اسی شخص نے آپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا :
''مَافَعَلَ اللہُ بِکَ
یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' آپ نے ارشاد فرمایا: ''اس نے مجھے بخش دیا۔'' اس شخص نے پوچھا : ''آپ کے آنسوؤں کا کیا ہوا؟'' تو آپ نے جواب دیا: ''اللہ عزوجل نے ان کے سبب مجھے اپنے قرب سے مشرف فرمایا اور مجھ سے پوچھا :''اے فتح! تُو کس بات پر رویا کرتا تھا؟'' میں نے عرض کی :''میں تیرے واجب کردہ حق کی ادائیگی میں کوتاہی پر روتا تھا۔'' پھر پوچھا :''خون کے آنسو کیوں روتا تھا؟'' تو میں نے عرض کی: ''اس خوف سے کہ کہیں تو میرے لئے توبہ کا دروازہ نہ بند کر دے۔'' تواللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:''اے فتح! اس( رونے) سے تیرا ارادہ کیا تھا؟ مجھے اپنی عزت کی قسم! چالیس سال تک تیرے محافظ فرشتے آسمانوں پر اس طرح آئے کہ تیرے اعمال نامے میں ایک بھی گناہ نہیں تھا۔''

(73)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناعطا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت سیدناعبید بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیدناعبید بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: ''تمہیں ہماری ملاقات کا خیال کب آگیا؟''تو انہوں نے عرض کی: ''اے مادرِمحترم رضی اللہ تعالیٰ عنہا! میں آپ کو وہی جواب دوں گاجو اگلوں نے اس موقع پر دیا :''ملاقات میں دیر کیا کرو محبت میں اضافہ ہو گا۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا: ''ہمیں فضول گفتگو سے معاف ہی رکھو۔'' حضرت سیدنا عبید بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں جو سب سے انوکھی چیز دیکھی وہ ہمیں بیان فرمائیں۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ دیر سکوت فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا: ''ایک رات شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے عائشہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)! آج رات مجھے اپنے رب عزوجل کی عبادت کرنے دو۔'' میں نے عرض
Flag Counter