| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔'' اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اللہ عزوجل ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے ہی تھے، اے ضرار! ان پر تمہارا غم کیسا ہے ؟'' تو انہوں نے عرض کی: ''اس عورت جیساجس کے پہلو میں اس کے بیٹے کو ذبح کردیا گیا ہوتو نہ اس کے آنسو خشک ہوتے ہیں، نہ غم میں کمی آتی ہے۔''
(حلیۃ الاولیاء ،ذکر علی بن ابی طالب،رقم:۲۶۱،ج۱،ص۱۲۶)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس قدر روئے کہ ٹپکنے والے مشکیزے کی طرح ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنی کثرت سے روئے کہ آنکھیں کمزور ہوگئیں۔
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن یزید بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید بن مرثدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ''کیا بات ہے کہ میں نے آپ کی آنکھ کو کبھی خشک نہیں پایا؟'' تو انہوں نے جواب دیا:''تم یہ سوال کیوں کررہے ہو؟'' میں نے عرض کی: ''اِس لئے کہ شاید اللہ عزوجل اس کے ذریعے مجھے نفع بخشے۔'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ''اے میرے بھائی! اللہ عزوجل نے مجھے خبردار کیا ہے کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو وہ مجھے جہنم میں قید کر دے گا۔اللہ عزوجل کی قسم! اگر وہ مجھے حمام میں قید کرنے کی بھی وعید سناتا تب بھی میں اس بات کاحق دار تھا کہ میری کوئی آنکھ خشک نہ ہوتی۔'' میں نے پوچھا: ''کیا تنہائی میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی حال ہوتا ہے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا:''تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟'' میں نے عرض کیا''شاید اللہ عزوجل مجھے اس سے نفع پہنچائے، تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ''اللہ عزوجل کی قسم! جب میں اپنی زوجہ کے پاس ہم بستری کے ارادے سے جاتا ہوں تو یہی خیال میرے ارادے کے درمیان حائل ہو جاتاہے اور جب میرے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے تب بھی یہی خیال میرے اور کھانے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہا ں تک کہ میری زوجہ اور بچے بھی رو پڑتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کیوں رو رہے ہیں؟ بسااوقات میری زوجہ بے قرار ہو کر کہتی ہے ہائے افسوس! میں نے آپ کے ساتھ اس دنیوی زندگی میں اتنے غم پائے ہیں کہ میری آنکھوں نے کبھی ٹھنڈک اور قرار پایا ہی نہیں۔''
حضرت سیدنا جعفر بن سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''حضرت سیدنا ثابت بنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی تو طبیب نے عرض کی: ''آپ مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دیں تو آپ کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا: ''وہ کیا ہے؟'' تو طبیب نے عرض کی: ''رویا نہ کریں۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''جو