Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
80 - 857
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:''اس سے مراد حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔'' 

    حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:''میرے سامنے حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اوصاف بیان کریں۔'' حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اس سے معاف نہ رکھیں گے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ''نہیں، ان کے اوصاف بیان کریں۔'' حضرت سیدناضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر عرض کی: ''کیا مجھے اس سے عافیت نہ دیں گے؟'' تو حضرت سیدناامیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''نہیں، میں آپ کو ان کے اوصاف بیان کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔'' تو حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''جب ان کے اوصاف بیان کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو سنئے : حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم ومعارف کے حامل تھے کہ اس ميں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایاجا سکتا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبو ط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، اللہ عزوجل کی قسم! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے ،دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی واضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے ،اللہ عزوجل کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور اللہ عزوجل کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے)، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتورکو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، اللہ عزوجل کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں: ''یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا!''یعنی اے ہمارے رب عزوجل! اے ہمارے رب عزوجل! پھر فرماتے :'' اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور