| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
حضرت سیدنا وہب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''حضرت سیدنا داؤد علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کی زمین تر ہو جاتی اور اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسوؤں سے گھاس اُ گ جاتی پھر اتنا روتے کہ آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز بند ہو جاتی ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''حضرت سیدنا یحیی بن زکریا علی نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام اتنا روتے کہ آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رخسار پھٹ گئے اور داڑھیں ظاہر ہو گئیں تو آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ نے آپ سے فرمایا: ''بیٹا! تم مجھے اجازت دو کہ میں اون کے دو ٹکڑے تمہارے گالوں پر رکھ دوں تا کہ تمہاری داڑھیں چھپ جائیں۔'' آپ نے اجازت دے دی تو انہوں نے آپ کے رخساروں پر انہیں چسپاں کردیا پھر جب آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام روتے تو وہ آنسوؤں سے بھرجاتے اور آپ کی والدہ انہیں نچوڑ دیتیں اور آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسو اپنے بازو پر بہا دیتیں۔''
(71)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:''حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ رونے والے شخص تھے، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہتا۔''(صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ ،باب المسجد یکون فی الطریق۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۷۶،ص۴۰)
(72)۔۔۔۔۔۔جب نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مرض میں مبتلا ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت نرم دل ہیں جب وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو( ان پر غم کا غلبہ ہوجائے گا اور) گریہ وزاری کے سبب لوگ تلاوت نہ سن سکیں گے۔''
(سنن ابن ماجۃ ،کتاب اقامۃ الصلاۃ ، باب ماجاء فی صلاۃ رسول اللہ فی مرضہ ، الحدیث:۱۲۳۲،۱۲۳۴، ص۲۵۴۹، بتغیرٍ قلیلٍ)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عیسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رخساروں پر رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں بن گئی تھیں۔''
حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ عزوجل کے اس فرمان:اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَ یَرْجُوۡا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:کیاوہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا اوراپنے رب کی رحمت کی آس لگائے۔( پ 23،الزمر:9)