خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔''
ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاقول ہے :''اگر یہ اعلان ہوکہ ایک شخص کے علاوہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہی وہ شخص نہ ہوں۔'' یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد افضل انسان حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی مگر اس کے باوجود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتنوں اورمنافقین سے متعلق احوال میں حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے راز دار صحابی حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسارفرمایا:''اے حذیفہ! کیامنافقین میں میرا نام بھی ہے؟'' تو حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل کی قسم! آپ ان میں سے نہیں ۔'' حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے نفس نے میرے احوال کومشتبہ تو نہیں کر دیا اور میرے عیوب کو مجھ سے چھپا تو نہیں لیا اوریہ خوف اتنا زیادہ ہوا کہ انہوں نے رسولِ کائنات ،فخرِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف سے ملنے والی جنت کی بشارت کو چند ایسی شرائط سے مشروط جانا جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نہ پائی جاتی تھیں، لہٰذا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بشارت سے اپنے آپ کو مطمئن نہ کيا ۔
حضرت سیدناحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جب ہم سب کے باپ حضرت سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام جنت سے زمین پر اترے تو تین سوسال تک خوفِ خداعزوجل سے گریہ وزاری کرتے رہے یہاں تک کہ آپ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنسوؤں سے سراندیپ کی وادیاں جاری ہو گئیں۔ سراندیپ برصغیر کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے (اس کا موجودہ نام سری لنکا (سيلون )ہے )، اس کی فضاباقی تمام شہروں سے زیادہ معتدل ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اس شہر میں اترے تا کہ انہیں جنت سے جدائی کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان نہ پہنچے، اگر حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی دوسرے شہر میں اترتے جہاں کے موسم میں سردی اور گرمی معتدل نہ ہوتی تو آپ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کازیادہ نقصان پہنچتا۔
حضرت سیدنا وہیب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اللہ عزوجل نے جب حضرت سیدنا نوح علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ان کے بیٹے کے معاملے میں عتاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: