(6) اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ (پ 22 ،فاطر : 28 )
اور علم کی فضیلت پر دلالت کرنے والی ہر آیت کریمہ یاحدیث مبارکہ خوفِ خدا عزوجل کی فضیلت کی بھی دلیل ہے کیونکہ خوف علم ہی کانتیجہ ہے۔
(69)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے :''جب بندے کے جسم پر خوفِ خدا عزوجل سے لرزہ طاری ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت سے خشک پتے جھڑتے ہیں۔''
(مسندبزّار،ج۴،الحدیث:۱۳۲۲،ص۱۴۸''باختلاف الالفاظ'')
(70)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے :''اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے اپنی عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر نہ تو دو خوف جمع کروں گا ، نہ ہی دو امن ، اگر میرا بندہ دنیا میں مجھ سے بے خوف ہو گا تو میں اسے قیامت کے دن خوف میں مبتلا کروں گا اوراگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن عطا فرماؤں گا ۔''
(کنز العمال،کتاب الاخلاق من قسم الاقوال، باب حر ف الخاء الخوف والرجاء ،الحدیث:۵۸۷۵،ج۳، ص۶۰،بتغیرٍ قلیلٍ)
حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جس دل میں خوفِ خدا عزوجل نہیں وہ دل ویرا ن ہے، کیونکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿٪99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔( پ 9، الاعراف : 99)
حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''خطا پر رو لینا گناہوں کواس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح ہوا