سفیان! جو خاندان کے بغیر عزت اور حکمرانی کے بغیر ہیبت اور رعب ودبدبہ حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہے کہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کی ذلت سے نکل کراس کی فرمانبرداری میں آجائے۔'' میں نے عرض کی: ''اے شہزادۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ! مزید نصیحت فرمائیے؟''تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ''مجھے میرے والد گرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین باتیں سکھاتے ہوئے مجھ سے ارشاد فرمایا: ''اے میرے بیٹے! (۱)جو برے آدمی کی صحبت اختیار کرتا ہے، وہ سلامت نہیں رہتا (۲) جو برائی کی جگہ جاتاہے، اس پر تہمت لگتی ہے اور (۳)جو اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتا، وہ نادم ہوتا ہے۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''میں نے حضرت سیدنا وھیب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا: ''کیا اللہ عزوجل کا نافرمان بھی عبادت کی لذت پاتا ہے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا:''نہیں، بلکہ جو اللہ عزوجل کی نافرمانی کے بارے میں سوچتا ہے وہ بھی عبادت کی لذت نہیں پاتا۔''
حضرت سیدناامام ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''خوف خواہشات کو جلادینے والی آگ کانام ہے اس لئے اس کی اتنی ہی فضیلت ہے جتنا یہ خواہشات کو جلاتا، معصیت سے روکتا اور اطاعت پر اُبھارتا ہے، نیز خوف فضیلت والا کیونکر نہ ہو کہ اسی سے پاکدامنی، تقوی، پرہیزگاری، مجاہدات اور دیگر وہ اعمال حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعے بندہ اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرتا ہے جیسا کہ اس کی فضیلت قرآنی آیات واحادیث سے بھی ظاہر ہے، مثلا اللہ عزوجل کے یہ فرامین مبارکہ: