Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
73 - 857
اللہ تعالیٰ عنہا! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے فاطمہ بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہاو صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگو مگرمیں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب ھل یدخل النساء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۵۳،ص۲۲۱،بدون''بعض الالفاظ'')
(63)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:''میں نے عرض کی:''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! (اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے)
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوۡنَ ﴿ۙ60﴾
ترجمۂ کنزالا یمان :اوروہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اوران کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔(پ 18،المؤ منون : 60)

تواے اللہ کے رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! جو شخص زنا کرتا، چوری کرتا اور شراب پیتا ہے کیا وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا بھی ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''نہیں! اے بنت ابوبکر! اے بنت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما!اس سے مراد وہ شخص ہے جونماز پڑھتا، روزے رکھتااور صدقہ کرتا ہے اور اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے اعمال قبول ہونے سے نہ رہ جائيں
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃرضی اللہ تعالیٰ عنہا،الحدیث:۲۵۳۱۸،ج۹،ص۵۰۵،بدون ''الرجل'')
    حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :''اے ابو سعید! ہم ایسی قوم کی مجلس کے بارے میں کیا کریں جو ہمیں اتنی اُمید دلاتی ہے کہ ہمارے دل اُڑنے لگ جاتے ہیں یعنی ہم خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔''تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل کی قسم! تمہارا ایسی قوم کی صحبت اختیار کرنا جوتمہیں خوف دلائے یہاں تک کہ تمہیں اخرت میں امن حاصل ہوجائے تمہارے لئے اس قوم کی صحبت اختیارکرنے سے بہترہے جو تمہیں اتنا امن دلائے کہ آخرت میں تمہیں خوف زدہ کرنے والے امور لاحق ہو جائیں۔'' 

    جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رخمی کیا گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت آگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا:''میرے رخسار کو زمین سے ملا دو، اگر اللہ عزوجل نے مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میری حسرت کا عالم کیا ہوگا؟'' حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی: اے امیر المومنین! یہ خوف کیسا؟'' حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں فتوحات کے در کھول دیئے اور بہت سے شہر آباد کئے، کیاوہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایسا معاملہ فرمائے گا؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میری اس طرح نجات ہوجائے کہ نہ وہ مجھ سے مؤاخذہ فرمائے اور نہ مجھ پر انعام فرمائے۔'' ایک اور روایت میں ہے :''نہ مجھے اجر ملے اور نہ ہی میرے
Flag Counter