Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
72 - 857
    حضرت سیدنا وہب بن ورد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے: ''جنت کی محبت اورجہنم کا خوف مصیبت پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے اور بندے کو دنیوی لذات، نفسانی خواہشات اورگناہوں سے دور کرتا ہے۔'' 

    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''اللہ عزوجل کی قسم! تمہارے سامنے کئی ایسی قومیں گزر گئیں جن میں سے اگر کوئی دنیا بھر کی کنکریوں کے برابر سونا خرچ کرتا تب بھی اپنے دل میں گناہ کو بڑا جاننے کی وجہ سے نجات حاصل نہ ہونے سے ڈرتا۔'' 

(60)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہ اللہ عزوجل کے لئے سجدہ میں یاقیام یا رکوع میں ہے، جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور اللہ عزوجل کے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اس کی پناہ مانگتے۔'' ایک روایت میں ہے :''اور تم اس بات سے بے خبر ہوتے کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں۔''
(کنز العمال ،کتاب العظمۃ ، من قسم الاقوال ، رقم ۲۹۸۲۴ ، ۲۹۸۲۸ ، ج ۱۰ ، ص ۱۶۶،ملخصاً)
    حضرت سیدنا بکر بن عبداللہ مزنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جو ہنستے ہوئے  گناہ کرتاہے وہ روتا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔'' 

(61)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر مؤمن اللہ عزوجل کے پاس والے عذاب کو جان لیتا تو جہنم سے بے خوف نہ رہتا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف،الحدیث:۶۴۶۹،ص۵۴۳)
(62)۔۔۔۔۔۔بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
وَ اَنۡذِرْ عَشِیۡرَتَکَ الْاَقْرَبِیۡنَ ﴿214﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور اے محبو ب اپنے قریب تر رشتہ دار وں کوڈراؤ۔(پ19،الشعرآء:214)

تو دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: ''اے گروہِ قریش! اللہ عزوجل سے اپنی جانوں کو خرید لو کیونکہ میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا ،اے بنی عبد مناف! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اللہ کے رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا! میں اللہ عزوجل کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے اللہ عزوجل کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پھوپھی صفیہ رضی
Flag Counter