| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
دروازہ ہے ہمیں اس پر بڑا تعجب ہوا اور ہم نے اسے مٹی سے ڈھانپ دیا۔''
ایک اور واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا:''ہم نے فلا ں کی قبر کھودی تو اس سے بہت بڑا اژدھا نکلا، وہ اس کے جسم سے لپٹا ہواتھا ہم نے اسے میت سے دور کرنے کی کوشش کی تو اس نے ہم پر پھنکارا جس سے ہم ایک دوسرے پر گر پڑے۔''
ہم غضب اور معصیت کے سبب ہونے والے قبر کے عذاب سے اللہ عزوجل کی پناہ چاہتے ہیں۔
حضرت سیدنا سلیمان بن عبدالجباررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''مجھ سے ایک گناہ سر زد ہوا تو میں نے اسے حقیر جانا پھر جب میں سویا تو خواب میں مجھ سے کہا گیا: ''کسی گناہ کو حقیر نہ جانو اگرچہ وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ آج جو گناہ تمہارے نزدیک چھوٹا ہے کل وہی گناہ اللہ عزوجل کے نزدیک بہت بڑا ہوگا۔''
حضرت سیدنا علی بن سلیمان اَنماطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں نے خواب میں حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں بیان شدہ اوصاف کی ہیئت وصورت میں ان کی زیارت کی، وہ فرما رہے تھے:لَوْلَاالَّذِیْنَ لَھُمْ وِرْدٌ یَّقُوْمُوْنَا وَآخَرُوْنَ لَھُمْ سِرْدٌیَّصُوْمُوْنَا لَدَکْدَکَتْ اَرضُکُمْ مِنْ تَحْتِکُمْ سِحْرًا لِاَنَّکُمْ قَوْمٌ سُوْءٌ لَا تُطِیْعُوْنَا
ترجمہ: اگر وہ لوگ نہ ہوتے جن کا وظیفہ ہماری بارگاہ میں قیام کرنا ہے اور وہ لوگ بھی نہ ہوتے جن کا وطیرہ ہمارے لئے روزے رکھنا ہے تو تمہارے نیچے کی زمین خودبخود پھٹ جاتی کیونکہ تم ایک ایسی بری قوم ہو جو ہماری اطاعت نہیں کرتی۔''
یاد رکھئے! گناہوں سے روکنے کاسب سے بڑا ذریعہ اللہ عزوجل کا خوف ، اس کے انتقام کاڈر،اس کے عقاب ، غضب اور پکڑ کااندیشہ ہے: چنانچہ، اللہ عزوجل کافرمانِ عالیشان ہے:فَلْیَحْذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنْ اَمْرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیۡبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿63﴾
ترجمۂ کنزالایمان: توڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے۔(پ 18،النور: 63) (59)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک جوان کے نزع کے عالم میں اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا :''کیسا محسوس کررہے ہو؟''اس نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عزوجل سے اُمید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں پر خوف زدہ ہوں تو سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرما يا کہ ''ایسے وقت میں بندے کے دل میں جب یہ دوچیزیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ عزوجل اس کی اُمید اسے عطا فرمادیتا ہے اور جس چیز سے بندہ خوف زدہ ہوتا ہے اسے اس سے امن عطا فرما دیتا ہے۔''
(جامع الترمذی ابواب الجنائز، باب الرجاء باللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۹۸۳،ص۱۷۴۵)