Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
70 - 857
تھا تو پابندی سے اپنے والد صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر پر حاضری دیا کرتا اور قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتا تھا ایک مرتبہ رمضان المبارک میں نماز فجر کے فوراًبعد قبرستا ن گیا غالباً وہ رمضان کا آخری عشرہ بلکہ شب قدر تھی، اس وقت قبرستان میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا بہرحال ابھی میں نے اپنے والد صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر کے قریب بیٹھ کر قرآن پاک کا کچھ حصہ ہی پڑھا تھا کہ اچانک شدید آہ وبُکا اور رونے دھونے کی آواز سنی، رونے والا بار بار ''آہ !آہ! آہ!'' کہہ رہا تھا، چونے سے تیار شدہ چمکدار سفید قبر سے نکلنے والی اس آواز نے مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کردیا تو میں قراء َت چھوڑ کر وہ آواز سننے لگا، میں نے قبر کے اندر سے عذاب کی آواز سنی، عذاب میں مبتلا شخص اس طرح آہ وزاری کررہاتھا جسے سننے سے دل میں قلق اور گھبراہٹ پیدا ہورہی تھی، میں کچھ دیر تک وہ آواز سنتا رہا پھر جب دن خوب روشن ہوگیا تووہ آوازسنائی دینا بند ہو گئی ،پھر جب ایک شخص میرے قریب سے گزرا تو میں نے اس سے پوچھا :''یہ کس کی قبر ہے ؟'' تو اس نے بتا یا :''یہ فلاں کی قبر ہے۔'' میں نے اس شخص کو بچپن میں دیکھا تھا، یہ کثرت سے مسجد آتا جاتا، نمازوں کو اپنے اوقات میں ادا کرتا اور بے جا گفتگو سے پرہیز کیا کرتا تھا، میں نے چونکہ اسے دیکھا ہوا تھا لہٰذا اس کو پہچان گیا، لیکن اس شخص کی اس موجودہ حالت نے مجھ پر بہت گہرا اثر ڈالا اور مجھے معلوم ہوگیاکہ اس نے زندگی میں اعمالِ صالحہ کو محض اپنا ظاہری لبادہ بنا رکھا تھا، اس کے بعد میں نے اس کے احوال کی حقیقت جاننے والوں سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو لوگوں نے مجھے بتایا :''وہ سود کھایا کرتا تھااور ایک تاجر تھا، جب بوڑھا ہوا اور اس کے پاس مال کم رہ گیا تو اس کا ظالم اور خبیث نفس اپنی باقی زندگی میں اس جمع شدہ پونچی سے گزارا کرنے پر راضی نہ ہوا اور شیطان نے اس کے دل میں سود کی محبت کو آراستہ کیا تا کہ اس کے مال میں کمی نہ ہو اوریہی وجہ ہے کہ وہ رمضان بلکہ شب قدر میں بھی اس دردناک عذاب سے دوچارہے ۔

پھرجب میں نے اس کے علاقے کے ایک شخص کے سامنے اپنا پیش آمدہ واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا :''اس سے زیادہ تعجب خیز واقعہ تو فلاں قاضی کے قاصد (یعنی پيغام رساں ) عبدالباسط کا ہے۔'' میں اس شخص کو بھی جانتا تھا، یہ ابتداء میں قاضیوں کا قاصدتھا پھر مالدار ہوگیا، میں نے پوچھا:''اس کا واقعہ کیا ہے؟'' تو اس نے بتایا :''جب ہم نے ایک مردہ کو دفنانے کے لئے اس کے قریب قبر کھودی تو اتفاق سے اس کی قبر کھل گئی ہم نے اس کی قبر میں ایک بہت بڑی زنجیردیکھی، ایک بہت بڑاسیاہ کتا اس زنجیر میں اس کے ساتھ بندھا ہوا ا س کے سر پر کھڑا تھا اور اسے اپنے پنجوں اور ناخنوں سے چیرنا پھاڑنا چاہتا تھا، ہم یہ خطرناک منظر دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوئے اور جلدی جلدی اس کی قبر کو مٹی سے ڈھانپ دیا۔ 

    انہی لوگوں نے مجھے بتایا :''ایسا ہی ایک منظر ہم نے فلاں شخص کی قبر میں بھی دیکھا تھا جب ہم نے اس کی قبر کھودی تو دیکھا کہ اس کے جسم میں سے صرف کھوپڑی باقی بچی ہے اور اس میں چوڑے منہ والی بڑی میخیں ٹھکی ہوئی ہیں گویا کہ وہ ایک بڑا