میری نافرمانی کی تو میں تم سے نفرت کرنے لگا۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''میں چاند کی ابتدائی راتوں میں قبرستان کے پاس سے گزرا تو میں نے ایک شخص کو قبر سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ زنجیر کھینچ رہا تھا پھر میں نے دیکھا کہ ایک اور شخص اس زنجیر کو پکڑے ہوئے ہے اس دوسرے نے باہر نکلنے والے شخص کو اپنی طرف کھینچا اور اسے قبر میں لوٹا دیا، پھر میں نے اسے اس مردے کو مارتے ہوئے دیکھا او ر مردہ کہہ رہا تھا :''کیا میں نماز نہیں پڑھتا تھا؟ کیامیں جنابت سے غسل نہیں کرتا تھا؟ کیا میں روزے نہیں رکھتا تھا؟'' تو اس مارنے والے نے جواب دیا: ''ہاں،کیوں نہیں،(تُو واقعی یہ کام تو کرتا تھا) مگر جب تُو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا تو اس وقت اللہ عزوجل سے نہیں ڈرتا تھا۔''
حضرت سیدنا ابراہیم تیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتاتھا، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :''یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔'' تو وہ مردہ کہنے لگا: ''یا رب عزوجل! کیا میں قرآن نہیں پڑھا کرتا تھا؟ کیا میں تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کرتا تھا؟'' پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا:''تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیاکرتا تھا لیکن جب تُوتنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے اعلانِ جنگ کرتا اور مجھ سے نہیں ڈرتا تھا۔''
حضرت سیدنا عبداللہ بن مَدِینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''ہمارا ایک دوست تھا اس نے ہمیں بتایا کہ میں اپنی زمین کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں نماز مغرب کا وقت ہوگیا تو میں قریب کے ایک قبرستان کے پاس آیا اور نماز مغرب ادا کر کے ابھی وہیں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے قبرستان کی طرف سے رونے کی ایک آواز سنی جس قبر سے رونے کی آواز آرہی تھی میں اس کے قریب آیاتو سنا کہ وہ مردہ کہہ رہا تھا :''آہ! بے شک میں روزے رکھا کرتا اور نماز پڑھا کرتا تھا۔'' یہ سن کرمجھ پر کپکپی طاری ہوگئی تو میں نے قریب کے لوگوں کو بلایا تو انہوں نے بھی وہ باتیں سنیں، اس کے بعد میں اپنی زمین کی طرف چلا گیا اور جب دوسرے دن واپس آکر اسی جگہ نماز پڑھی اور غروب آفتا ب کے انتظار میں وہیں ٹھہرا رہا، پھر نماز مغرب ادا کرکے قبرکی جانب کان لگا کر سنا کہ وہ مردہ روتے ہوئے کہہ رہا ہے: '' آہ!میں نماز پڑھا کرتا تھا، میں روزے رکھا کرتا تھا۔'' اس کے بعدمیں اپنے گھر لوٹ آیا اور دو مہینے مسلسل بخار میں تپتارہا۔''
مَیں ( مصنف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) کہتا ہوں کہ اسی طرح کاایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا تھا، ہوایوں کہ جب میں چھوٹا