کرتا ہے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :''وہ کیسے؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے اوراس طرح قیامت کے دن اپنے دشمنوں کوخوش کریگا۔''
حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اللہ عزوجل نے اپنے ایک نبی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی :''اپنی قوم سے کہو کہ وہ نہ تو میرے دشمنوں کے ٹھکانوں میں داخل ہوا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کا لباس پہنا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کی سواریوں پر سوار ہوا کرے اورنہ ہی میرے دشمنوں کے کھانے کھایا کرے کہ کہیں وہ لوگ ان کی طرح میرے دشمن نہ ہو جائیں۔''
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''لوگو ں نے اللہ عزوجل کے حقوق کو ہلکا جانا تو اس کی نافرمانی کرنے لگے اگر وہ اسے معزز جانتے تو اللہ عزوجل انہیں گناہوں سے محفوظ فرما لیتا۔'' مزید فرماتے ہیں:''جب کامل آدمی کوئی گناہ کربیٹھتا ہے تو اسے بھلاتا نہیں اور مسلسل اس گناہ پر ڈرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔''
(58)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''مؤمن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر دیکھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ پڑیں اور فاجر گناہوں کوناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح سمجھتا ہے جب وہ اسے اُڑاتا ہے تو وہ اُڑجاتی ہے۔''