Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
67 - 857
کرتا ہے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :''وہ کیسے؟'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے اوراس طرح قیامت کے دن اپنے دشمنوں کوخوش کریگا۔'' 

    حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اللہ عزوجل نے اپنے ایک نبی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی :''اپنی قوم سے کہو کہ وہ نہ تو میرے دشمنوں کے ٹھکانوں میں داخل ہوا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کا لباس پہنا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کی سواریوں پر سوار ہوا کرے اورنہ ہی میرے دشمنوں کے کھانے کھایا کرے کہ کہیں وہ لوگ ان کی طرح میرے دشمن نہ ہو جائیں۔'' 

    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''لوگو ں نے اللہ عزوجل کے حقوق کو ہلکا جانا تو اس کی نافرمانی کرنے لگے اگر وہ اسے معزز جانتے تو اللہ عزوجل انہیں گناہوں سے محفوظ فرما لیتا۔'' مزید فرماتے ہیں:''جب کامل آدمی کوئی گناہ کربیٹھتا ہے تو اسے بھلاتا نہیں اور مسلسل اس گناہ پر ڈرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔'' 

(58)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''مؤمن اپنے  گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر دیکھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ پڑیں اور فاجر  گناہوں کوناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح سمجھتا ہے جب وہ اسے اُڑاتا ہے تو وہ اُڑجاتی ہے۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، الحدیث:۶۳۰۸،ص۵۳۱،بدون''فطار''وقع بدلہ ''مرّ'')
    حضرت سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''بنی اسرائیل کے ایک شخص سے  گناہ سر زد ہوا تو وہ غمزدہ ہوگیا اوراِدھر اُدھر چکر لگانے لگا کبھی آتا کبھی جاتا اور کہتا:''میں اپنے رب عزوجل کوکس طرح راضی کروں۔'' تو اسے صدیقین میں لکھ دیا گیا۔'' 

    حضرت سیدنا عمار بن دادا رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا کھمس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ''اے ابو سلمہ! میں نے ایک گناہ کیا تھااور اس پر چالیس سال سے رور رہا ہوں۔'' میں نے پوچھا: ''وہ گناہ کیاتھا ؟'' تو آپ نے ارشاد فرمایا: ''میرا ایک بھائی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تو میں نے اس کے لئے ایک دانق (يعنی درہم کے چھٹے حصے ) کی مچھلی خریدی جب اس نے کھانا کھا لیا تو میں اپنے پڑوسی کی دیوار کی طرف گیا اور اس میں سے مٹی کا ایک ڈھیلا لیا اوراس مٹی سے (بطورِ صابن)اس مہمان کے ہاتھ دھلائے میں اپنی اس خطا (یعنی پڑوسی کی دیوار سے اس کی اجازت کے بغیر مٹی لینے) پر چا لیس سال سے رورہاہوں۔''
    حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی عامل ( یعنی صدقات جمع کرنے والے) کی طرف مکتوب بھیجا(جس
Flag Counter