| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ہے اگر اس سے فقط یہ خبر دینا مراد ہے کہ مخلوق اگر چہ وہ کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو اپنے اَقرباء کو ہدایت دینے سے عاجزہے۔ ''اِنَّکَ لَاتَھْدِیْ''یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جسے چاہیں اسے اپنی مرضی سے ہدایت نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ یہ آیت مبارکہ (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ) اس بات کافائدہ دیتی ہے کہ بعض اوقات آباؤ اجداد کی وجہ سے اولاد پر عقاب ہوتا ہے اور اس سے دونوں صورتوں کا مساوی ہونا لازم نہیں آتا، ہاں! یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات آباء کی نیکی سے اولاد کو نفع حاصل ہوتا ہے اور یہ ان دونوں معاملوں میں کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ۔ بعض اوقات کوئی فاسق ظاہری طور پرنیک اعمال کرتا ہے تو اللہ عزوجل ان اعمال کے سبب اس کی اولاد کو نفع پہنچاتا ہے لہٰذا اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرنامتعین ہوگیا کہ:
وَلْیَخْشَ الَّذِیۡنَ لَوْ تَرَکُوۡا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ وَلْیَقُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتاتو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔ (57)۔۔۔۔۔۔ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکتوب لکھا : ''امابعد!جب بندہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس کی تعریف کرنے والے لوگ اس کی مذمت کرنے لگتے ہیں۔''(پ 4،النسآء: 9)
(کتابُ الزھد لامام احمد بن حنبل،زھد عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا،الحدیث:۹۱۷،ص۱۸۶)
حضرت سیدناابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اس بات سے ڈرو کہ مؤمنین کے دل تم سے نفرت کرنے لگیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔''
حضرت سیدنا فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جو بندہ تنہائی میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتاہے اللہ عزوجل مؤمنین کے دلوں میں اس کے لئے اپنی ناراضگی اس طرح ڈال دیتا ہے کہ اسے اس کا شعور بھی نہیں ہوتا۔''
امام محمد بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مقروض ہوئے اور انہیں قرض کے سبب شدید غم لاحق ہوا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں اس غم کا سبب چالیس سال پہلے سر زد ہونے والے ایک گناہ کو سمجھتا ہوں۔''
حضرت سیدنا سلیمان تیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''آدمی پوشیدہ طور پر ایک گناہ کرتا ہے تو ا س کی وجہ سے اس پر ذلت طاری ہوجاتی ہے۔''
حضرت سیدنا یحیٰ بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''مجھے اس عاقل پرتعجب ہے جو اپنی دعا میں تویہ کہتا ہے کہ یا اللہ عزوجل! مجھے مصیبت میں مبتلا کر کے میرے دشمنوں کو خوش نہ کرنا۔ حالانکہ وہ خود دشمن کواپنی مصیبت پر خوش کرنے کے اسباب پیدا