Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
65 - 857
    پس اگرتمہیں اپنے چھوٹوں اور محتاج ومسکین اولاد کے بارے میں کوئی ڈر ہو تو اپنے تمام اعمال خصوصا ًدوسروں کی اولاد کے بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرو تاکہ اللہ عزوجل تمہاری اولاد کے معاملہ میں تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہارے تقویٰ کی برکت سے انہیں حفاظت وخیر اور توفیق میں آسانیاں فراہم کرے جس سے تمہاری موت کے بعد تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور زندگی میں شرحِ صدر حاصل ہو اور اگر تم دوسرے لوگوں کی اولاد اور ان کے حرم کے معاملہ میں اللہ عزوجل سے نہیں ڈرو گے تو جان لو کہ تم سے اور تمہاری اولاد سے اس معاملہ میں مؤاخذہ ہو گا اور جو کچھ تم دوسروں کے ساتھ کرو گے وہی کچھ تمہاری اولاد کے ساتھ کیا جائے گا۔

وسوسہ:جب اولاد نے کچھ نہیں کیا تو ان کے آباؤاجداد کی لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے انہیں کیونکر عذاب ہو گا؟ یا پھران سے انتقام کیسے لیا جائے گا؟

جواب:اس لئے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے پیروکار اور ان کی اولاد ہیں۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ ۚ وَالَّذِیۡ خَبُثَ لَایَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل۔(پ8، الاعراف :58)

    اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الْمَدِیۡنَۃِ وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحْمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیۡ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان : رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا۔

    کہتے ہیں کہ ان کاوہ نیک باپ ان کی ماں کاساتواں دادا تھا۔

سوال:ہم،  گناہگاروں کی اولاد میں نیکوکار اورنیکوں کی اولاد میں گناہگار پاتے ہیں۔

کیا آپ حضرت سیدنا نوح علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کے بیٹے اور حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کے قاتل بیٹے کے بارے میں نہیں جانتے اس پرآپ کیا کہیں گے ؟

جواب: ایک تو یہ کہ ایسا بہت کم ہوتاہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسی خفیہ تدبير کی وجہ سے ہے جسے اللہ عزوجل ہی جانتا(پ16، الکھف:82)
Flag Counter