| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدْعُوۡا حِزْبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیۡرِ ؕ﴿6﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو ! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو وہ تو اپنے گروہ کو اسی لئے بلاتا ہے کہ دو زخیوں میں ہوں۔(پ 22، فاطر :5،6)
(55)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:''اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کی طرف وحی فرمائی :''جب بندہ میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس سے راضی ہوجاتا ہوں اور جب میں اس سے راضی ہوجاتا ہوں تو اسے برکتیں عطا فرماتا ہوں۔ (بعض روایتوں میں ہے :''اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں۔'') اور جب بندہ میری نافرمانی کرتا ہے تو میں اس سے ناراض ہوجاتا ہوں اور جب میں اس سے ناراض ہوتا ہوں تو اس پر لعنت فرماتا ہوں اور میری لعنت اس کی سات پشتوں تک پہنچتی ہے۔''
اللہ عزوجل کا یہ فرمان ان آثار کی تائید کرتا ہے:وَلْیَخْشَ الَّذِیۡنَ لَوْ تَرَکُوۡا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ وَلْیَقُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں۔(پ 4،النسآء :9)
مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ، اللہ عزوجل کے فرمانِ عالیشان:مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:روزِجزا کامالک۔ـ(پ 1، الفاتحۃ: 3) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں دین سے مراد'' جزاء ''ہے۔ (56)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔''
(مصنَّف عبدُ الرزّاق،باب الاغتياب والشتم،الحدیث:۲۰۴۳۰،ج۱۰،ص۱۸۹)
یعنی تم جیسا سلوک کسی سے کرو گے ویساہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر تم سے قصا ص نہ لیا گیا تو تمہاری اولاد سے لیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
خَافُوۡا عَلَیۡہِمْ ۪ فَلْیَتَّقُوا اللہَ
ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں۔(پ4، النسآء : 9)