Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
63 - 857
ہے، خواہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو یا نہیں، جبکہ مامورات پرقدرت نہ ہو نے کے سبب(ان پر قدرت پانے تک) ان کوچھوڑا جا سکتاہے یہ نکتہ قابلِ غور ہے۔ 

    حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''تیرے نزدیک گناہ جتنا چھوٹا ہوگا اتنا ہی اللہ عزوجل کے نزدیک بڑا ہوگا اور تیرے نزدیک گناہ جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی اللہ عزوجل کے نزدیک چھوٹا ہوگا۔''

    منقول ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی: ''اے موسیٰ(علیہ الصلوٰۃو السلام) !میری مخلوق میں جو شخص سب سے پہلے مرا یعنی تباہ وبرباد ہوا وہ ابلیس تھا،کیونکہ اس نے سب سے پہلے میری نافرمانی کی تھی اور میں اپنے نافرمانوں کو مُردوں میں شمار کرتاہوں۔'' 

    حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے اور پھر جب دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پرایک اورسیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے یہاں تک کہ اس کا سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔'' 

    سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی تائید کرتاہے کہ'' گناہ کفر کے قاصد ہیں یعنی اس اعتبار سے کہ یہ دل میں سیاہی پیدا کرکے اسے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ پھر وہ کبھی کسی بھلائی کو قبول نہیں کرتا، اس وقت وہ سخت ہوجاتا ہے اور اس سے ہر رحمت ومہربانی اور خوف نکل جاتا ہے، پھروہ شخص جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور جسے پسند کرتا ہے اس پر عمل کرتا ہے، نیز اللہ عزوجل کے مقابلہ میں شیطان کو اپناولی بنا لیتا ہے تو وہ شیطان اسے گمراہ کرتا، ورغلاتا، جھوٹی اُمیدیں دلاتا اور جس قدر ممکن ہو کفر سے کم کسی بات پر اس سے راضی نہیں ہوتا۔''اللہ عزوجل فرماتاہے:
اِنۡ یَّدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا ۚ وَ اِنۡ یَّدْعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا ﴿117﴾ۙلَّعَنَہُ اللہُ ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفْرُوۡضًا ﴿118﴾ۙوَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ؕ وَمَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿119﴾ؕیَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیۡہِمْ ؕ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿120﴾اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ۫ وَلَا یَجِدُوۡنَ عَنْہَا مَحِیۡصًا ﴿121﴾
ترجمۂ کنزالایمان :یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سر کش شیطان کو جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرا یا ہواحصہ لوں گاقسم ہے میں ضرور بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گاکہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز یں بدل دیں گياور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطا ن کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے (خسارے) میں پڑا شیطا ن انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطا ن انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے ان کا ٹھکانا دو زخ ہے اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے(پ 5،النسآء:117تا121)
Flag Counter