| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
جاتاہے مگر اللہ عزوجل کی اس نظر سے نہیں ڈرتا جو وہ تجھ پر رکھتا ہے تیرا یہ عمل اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔
افسوس ہے تجھ پر کیا تُو جانتا ہے کہ حضرت سیدنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کی وہ لغزش کیاتھی جس کے سبب اللہ عزوجل نے انہیں جسمانی مصیبت اور مال چلے جانے کی آفت میں مبتلا فرما دیا تھا ؟ان کی لغزش تو بس یہی تھی کہ ایک مسکین نے آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام سے ایک ظالم کے خلاف اس کا ظلم دور کرنے کے لئے مدد مانگی تھی تو آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اس کی مدد نہ کی اور نہ ہی اس ظالم کو ظلم سے منع کیا تو اللہ عزوجل نے آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کو آزمائش میں مبتلا کردیا۔''ایک شبے کاازالہ:
ظاہراً یہ قول حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی طرف منسوب ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی اس میں تاویل کرنا واجب ہے کیونکہ صحیح اورمختار عقیدے کے مطابق انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام (اظہارِ)نبوت سے پہلے اور بعد چھوٹے ،بڑے ،دانستہ اور نادانستہ ہر گناہ سے معصوم ہیں اور شاید آپ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اس مسکین کی مدد پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے سکوت فرمایاتھا، اس کے باوجود اللہ عزوجل کا ان پر عتاب فرمانا ممکن ہے کیونکہ آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے اس مسکین کی مدد کرنے کا کامل ترین عمل چھوڑدیا،اگرچہ آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کو اس کی مدد پر قدرت نہ پانے کا یقین تھا۔
حضرت سیدنا بلال بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' گناہ کے چھوٹا ہو نے کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو۔'' اورحضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اے انسان ! گناہ کو چھوڑدینا توبہ یعنی معافی چا ہنے سے بہت آسان ہے۔''
حضرت سیدنا محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اللہ عزوجل کو اپنی عبادت سے بڑھ کر یہ چیز زیادہ پسند ہے کہ اس کی نافرمانیاں چھوڑ دی جائیں۔'' ان کے اس قول کی تائید یہ حدیث مبارکہ بھی کرتی ہے۔ چنانچہ،
(54)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر طاقت اس پر عمل کرو اور جب تمہیں کسی کام سے منع کروں تو اس سے رُک جاؤ۔''(صحیح مسلم،کتاب الحج،باب فرض الحج مرۃً فی العمر،الحدیث:۳۲۵۷،ص۹۰۱،''فاجتنبوہ'' بدلہ'' فدعوہ'')
مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مامورات ( یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے) میں اِستطاعت یعنی بقدرِ طاقت کی قید لگانا اور منہیات(یعنی جن سے رکنے کا حکم ہے) میں اسے ذکر نہ کرنا اس کے نقصان کے بڑے ہونے اور اس میں پڑنے کی برائی کی طرف اشارہ ہے اور مسلمان پر اس سے دوری اختیار کرنے میں کوشش سے کام لینا واجب