| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(51)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا معا ذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف بھیجتے وقت ارشاد فرمایا:''مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ عزوجل کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ ، باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۹۶،ص۱۱۸)
(52)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس بن مالک کی والدہ حضرت سیدتنا اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کچھ وصیت فرمائیے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' گناہوں سے ہجرت کر لو (یعنی انہیں چھوڑ دو) کیونکہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، فرائض کی پابندی کرتی رہو کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے اور اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکر کرتی رہو کیونکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کوئی بندہ ذکر سے زیادہ پسندیدہ شے لے کر حاضر نہیں ہوسکتا ۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۳۱۳،ج۵،ص۱۲۹،''لایأتی العبد'' بدلہ''لا تأتی اللہ'')
(53)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کون سی ہجرت (یعنی ہجرت والے) افضل ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جو گناہوں سے ہجرت کرتے ہیں۔''
(صحیح ابن حبّان ،کتاب البر والصلۃ،باب ذکر الاستحباب للمرء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۶۲،جٍ۱،ص۲۸۷)
اور بھی بہت سی احادیث اس معنی پر دلالت کرتی ہیں ،چنانچہ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا :''کیا بنی اسرائیل نے اپنا دین چھوڑ دیاتھا کہ جس کی وجہ سے انہیں مختلف قسم کے دردناک عذابوں میں مبتلا کردیا گیا مثلاً ان کی صورتیں بگاڑ کر انہیں بندر یا خنزیر بنادیا گیا اوراپنے آپ کوقتل کرنے کا حکم دیا گیا؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ''نہیں! بلکہ جب انہیں کسی چیز کا حکم دیا جاتا تو وہ اسے چھوڑدیتے تھے اور جب کسی کام سے روکا جاتا تو انجام کی پرواہ کئے بغیر اسے کر گزرتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دین سے اس طرح نکل گئے جیسے آدمی اپنی قمیص سے نکل جاتاہے۔''
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں:''اے گناہ گار! تُو گناہ کے انجامِ بد سے کیوں بے خوف ہے؟ حالانکہ گناہ کی طلب میں رہنا گناہ کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے، تیرا دائیں ،بائیں جانب کے فرشتوں سے حیانہ کرنا اور گناہ پرقائم رہنا بھی بہت بڑا گناہ ہے یعنی توبہ کئے بغیر تیرا گناہ پر قائم رہنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے، تیرا گناہ کرلینے پر خوش ہونا اور قہقہہ لگانا اس سے بھی بڑا گناہ ہے حالانکہ تُو نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل تیرے ساتھ کیا سلوک فرمانے والا ہے، اور تیرا گناہ میں ناکامی پر غمگین ہونا اس سے بھی بڑاگناہ ہے، گناہ کرتے ہوئے تیز ہوا سے دروازے کا پردہ اٹھ جائے توتُو ڈر