| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
وسلَّم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تومیں نے عرض کی:''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!رسوا وبرباد ہونے والے یہ لوگ کون ہیں ؟'' تو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' (۱)(تکبر کی وجہ سے) تہبندلٹکانے والا(۲) احسان جتلا نے والا اور(۳) جھوٹی قسم کے ذریعے اپنا سودا بیچنے والا۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۳،ص۶۹۶)
(35)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' (وہ تین افراد یہ ہیں)(۱)بوڑھا زانی (۲) جھوٹا حکمران اور (۳)مغرور فقیر۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۶،ص۶۹۶)
(36)۔۔۔۔۔۔ایک اور روا یت میں ان تین افراد کا ذکر ہے :(۱)چٹیل زمین میں ضرورت سے زائد پانی کو مسافر سے روکنے والا (۲) وہ شخص کہ عصر کے بعد اپنا سودا کسی کو بیچتا تو اللہ عزوجل کی قسم اٹھا تا ہے تا کہ وہ شخص اتنی قیمت میں اس سے خرید لے پس وہ اس کی تصدیق کرتا ہے حالانکہ وہ جھوٹا تھا اور (۳) وہ شخص جو کسی حاکم کی دنیا کے لئے بیعت کرے اگر وہ حاکم اس کی منشاء کے مطابق اسے عطا کرے تو یہ اس سے وفا کرے اور اگر اسے عطا نہ کرے تو بے وفائی کرے ۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۷،ص۶۹۶)
(37)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے کچھ بندے ایسے ہیں جن سے وہ قیامت کے دن کلام فرمائے گا نہ اُنہیں پاک فرمائے گا اور نہ ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا۔'' عرض کی گئی:''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون ہیں؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''(۱)اپنے والدین سے بیزار ہوکر منہ پھیرنے والا(۲) اپنی اولاد سے بیزار ہونے والااور(۳) وہ شخص جس پر کسی قوم نے احسان کیا پھر اس نے احسان فراموشی کی اور ان سے بیزار ہوگیا یعنی انہوں نے اسے غلامی سے نجات دی اور یہ ان کاناشکرا ہوگیا۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن انس الجھنی،الحدیث۱۵۶۳۶،ج۵،ص۳۱۲)
(38)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو کسی قوم کے سرداروں کی مرضی کے بغیر اس قوم کا حکمران بنا، اس پر اللہ عزوجل، اس کے ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ عزوجل قیامت کے دن نہ اس کے فرض قبول فرمائے گا اور نہ ہی نفل۔''
(صحیح مسلم ، کتاب العتق ، باب تحریم تولی العتیق غیر موالیہ، الحدیث:۳۷۹۲ ، ص ۹۳۸)
( 39)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''چغل خور جنت میں ہر گز داخل نہ ہوگا۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الادب، باب مایقرأمن النمیمہ، الحدیث: ۶۰۵۶، ص۵۱۲)