(29)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث:۴۸۷۷،ص۱۵۸۱)
(30)۔۔۔۔۔۔امام احمد اورامام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کی یہ روایت اس کے موافق ہے:''مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سود کھانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث:۴۸۷۶،ص۱۵۸۱)
(31)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِلْعٰلَمِین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کسی عذر کے بغیر ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کیا بے شک وہ کبیرہ گناہوں کے ایک دروازے پر آیا۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الصلوٰۃ ،باب ما جاء فی جمع بين الصلاتين فی الحضر،الحدیث :۱۸۸،ص۱۶۵۴)
(32)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سوال کیا گیا :''کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔''
(33)۔۔۔۔۔۔جبکہ سیدنا امام دار قطنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی روایت کے مطابق '' وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچا نا بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
(سنن دارقطنی،کتاب الوصایا،الحدیث:۴۲۴۹،ج۴،ص۱۷۸)
(34)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :''تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل نہ کلام فرمائے گا، نہ ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی اُنہیں پاک فرمائے گا نیز ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔'' حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ