| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(23)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عا لیشان ہے :''کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟وہ گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرناہے۔'' نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ بات ارشاد فرماتے وقت حالتِ احتباء میں (یعنی گھٹنے کھڑے کر کے کپڑے کے ذریعے پیٹھ اور گھٹنوں کو باندھ کر) تشریف فرماتھے، یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ کپڑا کھول دیا پھر اپنی زبانِ حق ترجمان کو پکڑکر ارشاد فرمایا'' سن لو اور جھوٹی بات کرنا بھی(کبیرہ گناہ ہے)۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الایمان، باب فی الکبائر، الحدیث: ۳۸۳، ج ۱، ص ۲۹۲)
(24)۔۔۔۔۔۔ رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ اللہ عزوجل کاشریک ٹھہراناہے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
وَمَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَـرٰۤی اِثْمًا عَظِیۡمًا ﴿48﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرا یا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا۔( پ 5،النسآء :48) پھر ارشاد فرمایا:''اور والد ین کی نافرمانی کرنا۔'' اورپھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
اَنِ اشْکُرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الْمَصِیۡرُ ﴿14﴾
ترجمۂ کنزالایمان :یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی(میرے) تک آناہے ۔(پ21،لقمٰن: 14) یہ بات ارشا د فرماتے وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹیک لگا کر تشریف فرماتھے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم زانو پر سیدھے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:''سن لو اورجھوٹی بات کہنا بھی(کبیرہ گناہ ہے)۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۲۹۳،ج۱۸،ص۱۴۰)
(25)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اوریہ کہ کوئی شخص جھوٹی قسم کھائے اورپھراُس کی مچھر کے پَر برابربھی خلاف ورزی کرے تو اللہ عزوجل اس کے دل میں ایک داغ بنادے گاجس کااثرقیامت تک رہے گا۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ بن انس ، الحدیث:۱۶۰۴۳،ج۵،ص۴۳۰)
(26)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، ضرورت سے زائد پانی سے دوسروں کو روکنا اور نر جانور کو جفتی سے روکنا۔''
(البحرالزّخارالمعروف بمسندالبزّار، مسند بریدۃ بن حصیب، الحدیث:۴۴۳۷،ج ۱۰،ص۳۱۴)
(27)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن اللہ عزوجل کے