(18)۔۔۔۔۔۔ایک صحیح روایت میں ان مذکورہ سات گناہوں، مسلمان والدین کی نافرمانی اور بیت الحرام کو حلال ٹھہرانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے
(سنن ابی داؤد ،کتاب الوصایا،باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم،الحدیث:۲۸۷۵،ص۱۴۳۷)
عنقریب کچھ روایات ایسی بھی آئیں گی جن میں پیشاب کے قطروں سے نہ بچنے کو بھی کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے۔
(19)۔۔۔۔۔۔ایک حدیث مبارکہ میں یہ اضافہ ہے کہ''ہجرت کے بعد اعرابیوں (یعنی دیہاتیوں)کی طرف لوٹ جانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی الکبائر،الحدیث:۳۸۲،ج۱،ص ۲۹۱)
(20)۔۔۔۔۔۔ایک روایت ابن لہیعہ سے ہے: ''ہجرت کے بعد اعرابی(یعنی دیہاتی ) بننا۔''
(ا لمعجم ا لکبیر،الحدیث:۵۶۳۶،ج۶،ص۱۰۳)
(21)۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک اورروایت میں ہے :''ہجرت کے بعد دیہاتی پن کی طرف لوٹنا۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۵۷۰۹،ج۴،ص۲۰۰)
اس حدیث کی شرح یہ بیان کی گئی ہے کہ کوئی شخص ہجرت کے لئے نکلے، اس کے بعد جب وہ مال غنیمت میں سے حصہ پالے اور پھر جب اس پر جہاد واجب ہو جائے تو وہ اس ذمہ داری کو اپنی گردن سے اُتار دے اور پہلے کی طرح اعرابی ہوجائے۔ بعض اسلاف نے اس کی شرح کے لئے اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان سے اِستدلال کیا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ ارْتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدْبَارِہِمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک وہ جواپنے پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی۔(پ26،محمد: 25)
(22)۔۔۔۔۔۔امام ابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت سیدنا عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کردہ روایت بھی اس معنی کی تائید کرتی ہے: ''ہجرت کے بعد اعرابی ہوجانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔''