Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
51 - 857
پہلی قسم کی روایات:
 (12)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''کیامیں تمہیں اکبر الکبائریعنی سب سے بڑے تین کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹ بولنا ہے۔'' 

    راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات ارشاد فرماتے وقت دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بیٹھ گئے اور مسلسل اس کا تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے کہ کاش! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سکوت اِختیار فرمالیں۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۲۵۹،ص۶۹۳)
    شیخین(یعنی امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ تعالیٰ) سے مروی ایک روایت میں پہلے دوگناہوں کو کبیرہ گناہوں میں بھی شمار کیا گیاہے پھر اس کے ساتھ قتل کو بھی ملادیاگیا، جبکہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات کرنے کو اکبر الکبائریعنی بڑے کبیرہ گناہوں میں شمار کیاگیاہے۔ 

(13)۔۔۔۔۔۔(حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ''کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تم کسی کو اللہ عزوجل کا مدِمقابل ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔'' تو میں نے عرض کی: ''بے شک یہ تو بہت بڑا  گناہ ہے۔'' پھرعرض کی :''اس کے بعد کون سا  گناہ بڑا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تم اس خوف سے اپنے بچے کو قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھایا کریگا۔'' میں نے عرض کی کہ ''اس کے بعد کون سا  گناہ بڑا ہے؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زناکرو۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الایمان،با ب بیا ن کون الشرک۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۲۵۷،ص۶۹۳)
 (14)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔'' عرض کی گئی :''کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتاہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہاں! جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے۔''
  (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۲۶۳،ص۶۹۳)
 (15)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یہ آخری بات (یعنی والدین کو گالی دینا) بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ''
   (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لایسب الرجل والدیہ،الحدیث :۵۹۷۳،ص۵۰۶)
 (16)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف ہی کی ایک روایت میں شرک ، والدین کی نافرمانی، قتل، اور جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا
Flag Counter