Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
50 - 857
 (7)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ہے :''اگر اس نے ایسا کیا(یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتاردیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عزوجل اس کی تو بہ قبول فرمالے گا۔''
 (سنن نسائی،کتاب قطع السارق،باب تعظیم السرقۃ،الحدیث:۴۸۷۶،ص۲۴۰۳)
    اسی طرح ان کا یہ قول کہ''بیعت توڑنا'' تو اس کے بھی کبیرہ گناہ ہونے پر کوئی صریح نص وارد نہیں ہوئی بلکہ اس پر ایک سخت وعید آئی ہے ،اسی طرح سنت ترک کرنے کے گناہِ کبیرہ ہونے پر بھی کوئی نص نہیں بلکہ امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مستدرک میں ایک روایت کو شرط امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر صحیح قراردیتے ہوئے روایت کیا ہے کہ، 

(8)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:''فرض نمازوں، جمعہ اور رمضان کے کفاروں کی مثل دیگر ( گناہوں کے) بھی کفارے ہیں مگر اِن تین گناہوں کا کوئی کفارہ نہیں:(۱) اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا(۲) بیعت توڑنا او ر(۳)سنت کو چھوڑنا۔''
 (المستدرک،کتاب العلم ، باب الصلاۃ المکتوبۃ الی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۲۰،ج ۱،ص۳۲۳)
 (9)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بیعت توڑنے کی وضاحت یوں فرمائی ہے :''تم قسم کے ساتھ کسی شخص کی بیعت کرو، پھر اس بیعت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی تلوار کے ذریعے اس سے لڑ پڑو۔''
    (المرجع السابق)
 (10)۔۔۔۔۔۔ترکِ سنت کی وضاحت میں حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''اس سے مراد جماعت سے علیحدہ ہونا ہے۔''
 (المرجع السابق)
 (11)۔۔۔۔۔۔مسند احمد اور ابو داؤد شریف کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے بالشت بھر بھی جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ،باب فی الخوارج ، الحدیث:۴۷۵۸،ص۱۵۷۳)
    نیز ترکِ سنت سے مراد بدعات کی پیروی کرنا ہے اللہ عزوجل ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَآلہٖ وَسَلَّم
    ان احادیثِ مبارکہ کی طرف اشارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جن میں گناہوں کاتذکرہ موجود ہے، ان احادیث کی دوقسمیں ہیں: پہلی قسم وہ ہے جس میں کسی گناہ کے کبیرہ یا اکبرالکبائر ہونے یاسب سے بڑے گناہ، یا ہلاکت میں ڈال دینے والے  گناہ ہونے کی تصریح کی گئی ہو۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں لعنت ، غضب یا سخت وعید کا ذکر ہو۔
Flag Counter