Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
49 - 857
نے تصریح فرمائی ہے اور وہ یہ ہیں:'' شرک کرنا، قتل کرنا، زنا کرنا اورزنا میں سب سے بڑا گناہ پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا، میدان جنگ سے فرار ہونا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، جادو کرنا، مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا، جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی قسم اٹھانا، چغلی کھانا، چوری کرنا، شراب پینا، بیت الحرام کو حلال ٹھہرانا، بیعت توڑنا ، سنت چھوڑنا، ہجرت کے بعد عرب کا دیہاتی بننا، اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا، اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا، مسافر کو اپنی ضرورت سے زائد پانی کے استعمال سے روکنا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، والدین کی نافرمانی کرنا، والدین کو گالیاں دلوانے کے اسباب پیدا کرنا، وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچانا۔'' احادیثِ مبارکہ میں انہی پچیس(25) گناہوں کے کبیرہ ہونے کی تصریح آئی ہے۔

    مَیں(مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کہتاہوں :''ان گناہوں میں یہ اضافہ بھی کیاجاسکتاہے: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا اور نرجانور کو جفتی سے روکنا، بلکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے جیسا کہ آئندہ آنے والی بزار کی روایت میں بیان ہوگا، اسی طرح بیت الحرام کی بے حرمتی کرنا جیسا کہ بیہقی شریف کی روایت میں آئے گا اور یہ بے حرمتی بیت الحرام کو حلال ٹھہرانے کے علا وہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے، حرمِ پاک میں کسی بھی قسم کے گناہ کے اِرتکاب پر حرم کی بے حرمتی ثابت ہو جائے گی خواہ وہ پوشیدہ ہی ہو ۔'' 

    پھر جب مَیں نے علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتب کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ انہوں نے بیان کردہ اقوال کے بعد لکھا ہے کہ''گذشتہ احادیث میں مذکور بہت سی چیزیں بیان ہونے سے رہ گئی ہیں۔ مثلا نر جانور کوجفتی سے روکنا، جادو سیکھنا اور اس پرعمل کی کوشش بھی کرنا، اللہ عزوجل سے برا گمان رکھنا، خیانت کرنا اور بغیر عذر کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا البتہ اس کے بارے میں وارد حدیثِ پاک ضعیف ہے، اس کے ساتھ ہی منصوص علیہ کبیرہ گناہوں کی تعداد تیس(30) ہو گئی، مگر نرجانور کو جفتی سے روکنے والی روایت کی سندبھی ضعیف ہے اوراس کا نقصان دیگر کبیرہ گناہوں سے کم ہے ہم نے اسے صرف اس لئے ذکر کیا ہے کہ اس کا ذکر گذشتہ صفحات میں ایک حدیثِ مبارکہ میں ہوچکا ہے۔''

اعتراض:چوری کے کبیرہ گناہ ہونے کے بارے میں کسی حدیثِ مبارکہ میں تصریح نہیں آئی بلکہ حدیثِ پاک میں تو خیانت کے گناہ کبیرہ ہونے پر تصریح وارد ہوئی جس کا مطلب مالِ غنیمت سے چوری کرنا ہے۔ 

جواب:اس کے بار ے میں تصریح صحیحین میں موجود ہے، چنانچہ،

(6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب بیان نقصان الایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۲،ص۶۹۰)
Flag Counter