اس کا جواب یہ ہے کہ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ تعداد حالات کے تقاضوں کی بناء پر ارشاد فرمائی تھی اس سے کبیرہ گناہوں کو اس تعدادمیں محصور کرنا ہر گز مقصود نہ تھا۔
جن بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ''کبیرہ گناہ صرف سات ہیں۔''ان میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب ، حضرت سیدنا عطاء اور حضرت سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل ہیں۔
ایک قول کے مطابق کبیرہ گناہ ''پندرہ ''، ایک کے مطابق''چودہ '' اور ایک قول کے مطابق ''چار'' ہیں۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ'' گناہِ کبیرہ تین ہیں۔''اور انہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ''دس'' ہیں۔
جبکہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے امام عبدالرزاق اور طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے روایت کیا :''ان کی اقسام کی تعداد کا ''ستر ''ہونا سات سے زیادہ قریب ہے۔'' اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر شاگرد حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''ان کا اپنی انواع اور اصناف کے اعتبار سے سات سو (700)کی تعدا د میں ہونا زیادہ مناسب ہے ۔''
(5)۔۔۔۔۔۔امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس قول کو حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کيا:''کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟ کیاان کی تعداد سات ہے؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''ان کی تعداد کا سات سو(700)ہونا سات(7) ہونے سے بہتر ہے مگر یہ کہ کوئی کبیرہ گناہ اِستغفار یعنی توبہ اور اس کی شرائط کی موجودگی میں کبیرہ نہیں رہتا اور کوئی صغیرہ گناہ اصرار کے بعد صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتاہے)۔''