Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
47 - 857
ظاہر ہوتا ہو جیسے کسی کو بے گناہ سمجھ کر قتل کر دیا پھر پتہ چلا کہ وہ قتل ہی کا حق دار تھا یا کسی عورت سے یہ گمان کرتے ہوئے جماع کرنا کہ میں زنا کر رہا ہوں پھر پتہ چلا کہ وہ اس کی اپنی ہی بیوی یا لونڈی تھی۔'' 

    علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جو باتیں آخر میں ذکر کی ہیں انہیں علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے قواعد کی ابتدا ء میں ان سے پہلے ہی ذکر کردیا تھا اور علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جو کلام ابتداء میں کیا ہے، حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول اس کی تائید کرتا ہے کہ''ہر وہ گناہ جس پر اللہ عزوجل نے جہنم، غضب، لعنت یا عذاب کی مُہر لگا دی ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔'' اسے حضرت ابن جریررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیاہے۔

    جان لیں کہ بیا ن کردہ تمام تعریفات سے ان بزرگوں کا مقصود فقط اِعتدال کی راہ اختیار کرنا ہے ورنہ یہ تعریفات جامع نہیں ہیں اور جس چیز کی معرفت کا کوئی خاص قاعدہ مقرر نہ ہو اس کا شمار کیونکر ممکن ہے؟

    بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کی صرف تعداد بیان کی ہے کوئی تعریف بیان نہیں کی۔ لہٰذا حضرت سیدنا ابن عباس اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ''کبیرہ گناہ وہ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے سورۂ نِساء کی ابتدائی آیات سے لے کر اس آیت:
اِنْ تَجْتَنِبُوْاکَبَآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ
ترجمۂ کنزالایمان :اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے۔(پ5، النسآء:31)

تک بیان کیاہے۔'' ایک قول یہ ہے کہ''کبیرہ گناہ سات ہیں۔''اس پر صحیحین(یعنی بخاری مسلم) کی اس روایت سے استدلال کیا گیا ہے چنانچہ،

(1)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو،وہ یہ ہیں: (۱)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا(۳)اللہ عزوجل کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا(۴)یتیم کا مال کھانا (۵)سود کھانا (۶) جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا اور(۷)سیدھی سادی پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یأکلون اموال الیتمی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۶۶،ص۲۲۲)
 (2)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نِشان ہے :''کبیرہ گناہ یہ ہیں:(۱)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا (۳)والدین کی نافرمانی کرنا اور (۴)کسی جان کوقتل کرنا۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب الکبائر واکبرھا، الحدیث:۲۶۱،ص۶۹۳،بدون''السحر'')
 (3)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے :''جھوٹی قسم اٹھانا۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الایمان والنذور، باب الیمین الغموس، الحدیث:۶۶۷۵،ص۵۵۸)
Flag Counter