برائی بھی بہت زیادہ ہے۔
علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کئی مثالیں دینے کے بعد ارشاد فرمایا:''بعض علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے کبیرہ گناہ کی پہچا ن کے لئے یہ قاعدہ بنایا ہے کہ''ہر وہ گناہ جس پر کوئی وعید آئی ہو یا اس کے ارتکاب سے حد یا لعنت لازم آتی ہو تو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ لہٰذا راستے کے نشان بدل دینا بھی گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح ہر وہ گناہ جس کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس کے مفاسد ان گناہوں کی طرح ہیں جن پر وعید، لعنت یا حدوارِد ہوئی ہے یا اُن کے مفاسد ان سے زیادہ ہیں تو وہ گناہ بھی کبیرہ ہیں۔''
علامہ ابن دقیق العید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''ایسی صورت میں یہ بات شرط قرار پاتی ہے کہ اس برائی اور فساد کو لیا ہی نہ جائے جو کسی دوسرے اَمر سے خالی ہو کیونکہ اس میں غلطی واقع ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کیا آپ نہیں جانتے کہ خمر (شراب) کی جو برائی فوراً ذہن میں آتی ہے وہ نشہ اور عقل کا خلجان ہے اگر ہم فقط ان دو چیزوں کو اس کی برائی میں شمار کریں تواس سے یہ بات لازم آئے گی کہ شراب کا ایک قطرہ پینا گناہِ کبیرہ نہیں کیونکہ اس میں یہ برائیاں نہیں پائی جاتیں حالانکہ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کیونکہ ایک قطرہ پینا زیادہ شراب پینے کاپیش خیمہ ہے جو کہ ان مفاسد میں ڈال دیتاہے لہٰذاقطرے کی یہی حیثیت اسے کبیرہ کردیتی ہے۔''
علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''علامہ ابن دقیق العید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے شراب کے ایک قطرے کا جو ذکر کیا ہے ان سے پہلے علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا ذکر کیاتھا، پھر اپنے قواعد میں یہ بات نقل کرنے کے بعد فرمایا:''میں نے اس تعریف سے بہتر کسی عالم کی بیان کردہ تعریف نہیں دیکھی۔'' شاید ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے کوئی ایسی تعریف نہیں دیکھی جو اعتراض سے بھی محفو ظ ہو اورجامع و مانع بھی ہو۔
٭۔۔۔۔۔۔علامہ ابن صلاح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:''علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کبیرہ کی اس تعریف کو اختیار کیاہے کہ''کبیرہ ہراس گناہ کو کہتے ہیں جو اتنا بڑا ہو کہ اسے کبیرہ گناہ کہا جاسکتا ہو اور اسے علی الاطلاق کبیرہ گناہ کے ساتھ متصف کیا جاتا ہو، اس کی چند علامتیں ہیں:(۱)وہ گناہ حد کو واجب کرتاہو (۲)اس کے ارتکاب پر عذابِ جہنم کا وعدہ ہو اور اس کی وعید قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہو(۳)اس کے فاعل کو فاسق کہا جاتا ہو اور (۴)اس پر لعنت وارد ہوئی ہو۔''
شیخ الاسلام علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ''الحاوی''کے حاشیہ پرلکھی گئی اپنی تفسیر میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے: ''تحقیق یہ ہے کہ ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن وحدیث میں وعید یا لعنت وارد ہوئی ہو یا جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی برائی مذکورہ گناہ جیسی یا اس سے زیادہ ہے یا منصوص علیہ کبائر کوصغیرہ گناہ جاننے کی طرح اس کے مرتکب کااپنے دین کو ہلکا جاننا