علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ''منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں کا احاطہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ان گناہوں کو نہ جان لیا جائے جو فساد کے اعتبار سے ان سے کم تر ہوں اورجب تک واقع شدہ گناہ کی خرابی کے ساتھ ان کبیرہ گناہوں کا موازنہ نہ کرلیاجائے ،جو کہ دشوار ہے۔''
علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ،علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا یہ قول لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:''علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ اعتراض تو کر دیا مگر جب اس کے بارے میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کیا جائے تو اس میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی۔'' اورحقیقت میں ایسا کرنا واقعی مشکل ہے کیونکہ اگر اس کے بیان میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کرنے کے امکان کو فرض کر بھی لیاجائے اور ہم تمام کبیرہ گناہوں کے فساد کااحاطہ بھی کرلیں تب بھی یہ جاننا اِنتہائی مشکل اَمر ہے کہ ان میں سے کس گناہ کا فساد کم ہے کیونکہ یہ شارع علیہ الصلوٰۃو السلام کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔''
علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کا کھو کھلا پن ظاہر کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ''جس نے اللہ عزوجل کو معاذاللہ گالی دی یا اس کے کسی رسول کی توہین کی یا خانہ کعبہ یا قرآن پاک کو گندگی سے آلودہ کر دیا تو اس کا یہ فعل کبیرہ ترین گناہ ہے حالانکہ شارع علیہ الصلوٰۃو السلام نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح نہیں فرمائی۔ اور ان کے رَد کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس بد بخت کا یہ عمل اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنے کے زمرے میں آتاہے جو کہ منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں میں سرِ فہرست ہے کیونکہ یہاں شرک سے بالاجماع مطلق کفر مراد ہے نہ کہ صرف شرک۔
علامہ شمس برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''یہ سب اس صورت میں ہے جب کبیرہ گناہ کی تفسیر امام الحرمین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بیان کردہ معنی کے مطابق نہ ہو بلکہ کفر اور دیگر گناہوں سے عام ہونے کی بناء پر کی جائے اور مَیں( مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) گذشتہ صفحات میں یہ بات بیان کرچکا ہوں کہ امام الحرمین وغیرہ کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی جوتعریفیں بیان کی گئیں ہیں یہ کفر سے کم تر گناہ کی تعریفیں ہیں کیونکہ اگر کفر کو کبیرہ گناہ کہنا درست ہوتو یہ اکبرالکبائر ہوگا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے۔
علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مذکورہ قول کے بعد چند مثالیں بھی دی ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔جس نے کسی شادی شدہ پاک دامن عورت کو زنا کے لئے یا کسی مسلمان کوقتل کرنے کے لئے قید کرلیا تو بلاشبہ اس کی برائی یتیم کا مال ناحق کھانے والے سے زیادہ ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اگر کسی نے یہ جاننے کے باوجود کہ کفار میرے بتانے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے، ان کی عورتوں اور بچوں کو گالیاں ديں گے اور ان کے اموال کو غنیمت بنا لیں گے، پھر بھی کافروں کو مسلمانوں کی کمزوریاں بتائیں تو اس کی برائی جہاد سے بغیر عذر فرار ہونے سے بہت زیادہ ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اگر کسی نے مسلمان پر جھوٹا الزام لگایا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ جھوٹے الزام کی وجہ سے اسے قتل کردیا جائے گا تو اس کی