گناہ تو مشہور ہیں، البتہ! اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا انہیں کسی تعریف ، ضابطہ یا تعداد کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے یا نہیں؟''
اب ہم کبیرہ گناہ کے بارے میں اصحاب شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ متاخرین اور دیگر بزرگوں رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات نقل کرتے ہیں ۔چنانچہ
٭۔۔۔۔۔۔ان میں سے ایک قول حضرت سیدنا حسن بصری، حضرت سیدنا ابن جبیر، حضرت سیدنا مجاہد اور حضرت سیدنا ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں کہ''ہر وہ گناہ، کبیرہ ہے جس کے مرتکب سے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہو۔''
٭۔۔۔۔۔۔سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی فرماتے ہیں :''ہروہ گناہ جسے آدمی خوف یا ندامت محسوس کئے بغیر حقیر جانتے ہوئے کرے اور وہ اس پر جری بھی ہوتو وہ کبیرہ ہے اور جو گناہ دل کے وسوسوں کی پیداوار ہو اورپھر اس پر ندامت بھی محسو س ہونیز اس سے لذت حاصل کرنا بھی دشوار ہو تو وہ کبیرہ نہیں ۔''
سیدناامام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:''یہ ضروری نہیں کہ کبیرہ گناہوں کی کوئی خاص تعداد جانی جائے کیونکہ ان کی پہچان فقط سماعی (یعنی سنی سنائی )ہے اوران کی تعداد کے بارے میں کوئی نص بھی نہیں۔''
علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی پہلی بات پر یہ اعتراض کیاکہ یہ سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کی تفصیل ہے ، مگر یہ بات سخت مشکل میں ڈالنے والی ہے کیونکہ اگر کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ یہی ہو تو اس پر اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگر کوئی شخص زنا جیسا بُرا فعل کرے اوراس پر ندامت محسوس کرے تو کیا یہ کبیرہ گناہ شمار نہ ہوگا؟ اس صورت میں اس تعریف کے مطابق یہ گناہ کبیرہ شمار نہیں ہوتا، نہ ہی یہ معصیت اس کی عدالت کو ختم کرتی ہے، حالانکہ یہ بات بالاتفاق درست نہیں۔ البتہ اگر اس قاعدہ کو ان کبیرہ گناہوں پر محمول کیا جائے جن کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی تو یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہوگا۔
علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''شاید علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ خیال کیا ہے کہ ہر وہ گناہ جس کی تعریف بھی مذکور ہو تووہ منصوص میں داخل ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ، یعنی امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی کابیان کردہ قاعدہ منصوص کے علاوہ دیگر کبائر کے لئے ہے اور یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہے،جبکہ علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خود ارشاد فرمایا:''تمام تعریفات منصوص گناہوں کے علاوہ دوسرے گناہوں کو بھی شامل ہیں۔''
٭۔۔۔۔۔۔ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''مناسب ترین بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے فاعل سے اپنے دین کو اس طرح ہلکاجاننا ظاہرہو جس طرح کہ وہ منصوص علیہ کبیرہ گناہ کو صغیرہ سمجھتا ہو۔'' مزید فرماتے ہیں: ''جب آپ صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان فرق جانناچاہیں تو اس گناہ کے فساد کو منصوص علیہ کبیرہ گناہ کے مقابل رکھ کر دیکھیں اگر اس گناہ کا نقصان کبیرہ سے کم ہے تو یہ صغیرہ ہو گا ورنہ کبیرہ۔''